ویب ڈیسک:امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں ممکنہ کمی کی توقعات نے عالمی تیل مارکیٹ کو وقتی ریلیف فراہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث عالمی منڈی میں فروخت کا دباؤ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل 1.94 ڈالر یا 2.04 فیصد سستا ہو کر 93.09 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.50 ڈالر یا 2.69 فیصد کمی کے بعد 90.54 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع مزید سنگین رخ اختیار نہیں کرے گا، جس کے باعث تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ خطے میں کشیدگی کے حوالے سے مثبت اشارے سامنے آ رہے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں علاقائی تنازعات اور آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت سے متعلق خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد مارکیٹ میں نسبتاً توازن کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود آنے والے دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، کیونکہ جغرافیائی اور سیاسی عوامل اب بھی قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔