( احتشام کیانی)اسلام آباد ہائیکورٹ میں بحریہ ٹاؤن کی پانچ پراپرٹیز کی نیلامی کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران بنچ ٹوٹ گیا، جس کے بعد کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی۔
سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں جاری تھی، دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ چونکہ معاملہ پہلے بھی زیرِ سماعت رہ چکا ہے اور اس میں انٹرا کورٹ اپیل بھی دائر ہو چکی ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ کیس چیف جسٹس کے سامنے مقرر کیا جائے۔
عدالت نے فائل چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو بھجواتے ہوئے کہا کہ وہی اس کیس کی مزید سماعت کریں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ وہ پہلے بھی اسی نوعیت کا کیس سن چکے ہیں، اس لیے تسلسل کے لیے چیف جسٹس کا بنچ زیادہ مناسب ہوگا۔
درخواست گزار کی جانب سے سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،ان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ابتدائی رٹ پٹیشن پر پہلے بھی عدالتی فیصلہ موجود ہے۔
دوسری جانب قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر رافع مقصود نے عدالت کو بتایا کہ پہلے بھی اسی نوعیت کی انٹرا کورٹ اپیل دائر ہو چکی ہے، اور معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِ التواء ہے، جہاں یہی استدعا دہرائی گئی ہے۔
پراسیکیوشن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے پہلے ہی متعلقہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران نیب کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر عدالت ہدایت کرے تو وہ معاونت کے لیے تیار ہیں۔
یہ کیس اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ بحریہ ٹاؤن کی پانچ جائیدادوں کی نیلامی کے لیے قومی احتساب بیورو نے 7 جولائی کو نوٹس جاری کر رکھا ہے، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ چیف جسٹس پہلے بھی اس نوعیت کے معاملات سن چکے ہیں اس لیے بہتر ہوگا کہ موجودہ کیس بھی انہی کے سامنے فکس کیا جائے۔