ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سونے اور چاندی کی قیمت  میں بڑی تبدیلی، فی تولہ ریٹ جان کر ہوش اڑ جائیں گے

سونے اور چاندی کی قیمت  میں بڑی تبدیلی، فی تولہ ریٹ جان کر ہوش اڑ جائیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی منڈی میں حالیہ دنوں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں چند ہی دنوں میں سونے کی قیمتوں میں شدید کمی کے بعد دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اچانک تبدیلی نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام خریداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ ماہرین اسے عارضی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔

29 جنوری 2026 کو پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت تقریباً 5 لاکھ 72 ہزار روپے تھی، تاہم 30 جنوری کو سونے کی قیمت میں 35 ہزار 500 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد 31 جنوری کو مزید 10 ہزار روپے کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں 2 فروری کو فی تولہ سونا تقریباً 4 لاکھ 90 ہزار روپے تک آ گیا۔ بعد ازاں 3 فروری کو سونے کی قیمت میں 13 ہزار 700 روپے کا اضافہ ہوا اور نرخ 5 لاکھ 4 ہزار روپے تک پہنچ گئے۔

سونے کی قیمتوں میں اس اچانک کمی اور جزوی بحالی کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے یا یہ مندی محض عارضی ثابت ہو گی۔

معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی طلب اب بھی مضبوط ہے کیونکہ دنیا کے بڑے مرکزی بینک بتدریج امریکی ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں اور سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنایا جا رہا ہے، جس میں چین اور بھارت نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور یورپ میں تعطیلات کے باعث وقتی طور پر طلب متاثر ہوئی، جس کا اثر قیمتوں پر پڑا، تاہم صنعتی طلب اور عالمی غیر یقینی صورتحال سونے کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔

راجہ کامران کے مطابق نئے سال کے آغاز پر بڑی مالیاتی ادارے اپنے ذخائر اور سرمایہ کاری کا ازسرنو جائزہ لیتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات سونے کی خریداری عارضی طور پر کم ہو جاتی ہے اور قیمتوں میں وقتی اصلاح دیکھنے میں آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق کشیدگی، مشرق وسطیٰ کا عدم استحکام، یورپ اور امریکا کے اختلافات اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے عوامل سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری بنائے ہوئے ہیں، اسی لیے مجموعی رجحان اب بھی مثبت ہے۔

دوسری جانب کراچی صرافہ مارکیٹ کے رکن عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ دسمبر سے جنوری تک سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، جس کے بعد مارکیٹ کو ایک صحت مند اصلاح کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق حالیہ کمی اسی اصلاح کا حصہ تھی، جو مختصر مدت میں مکمل ہو گئی ہے، جبکہ طویل مدتی مندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔عبداللہ چاند کے مطابق اگر عالمی حالات اسی طرح برقرار رہے تو بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت آئندہ عرصے میں 6 ہزار ڈالر فی اونس تک بھی جا سکتی ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں میں اچانک اور بھاری کمی نے سرمایہ کاروں کو شدید نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں چاندی کی قیمت تقریباً 90 ڈالر فی اونس تک پہنچی تھی، تاہم چند ہی دنوں میں یہ گر کر 65.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جس سے 10 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق ڈالر کی مضبوطی، عالمی طلب میں کمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے رجحان نے چاندی کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا۔ مقامی صرافہ بازاروں میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں جہاں خریدار محتاط ہو گئے ہیں اور نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔