ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہائیکورٹ کا ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پر آر پی او گوجرانوالہ پر اظہار ناراضگی

ہائیکورٹ کا ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پر آر پی او گوجرانوالہ پر اظہار ناراضگی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ ڈویژن میں پولیس حراست کے دوران منشیات کے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے غیر معمولی واقعات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد کی کارکردگی اور طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "آپ آنکھیں بند کر سکتے ہیں، ہم نہیں"

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منشیات کے ملزم ابوبکر کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ کیس کی حساسیت کے پیش نظر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) گوجرانوالہ، خرم شہزاد عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو چونکا دینے والے اعداد و شمار پیش کیے۔ رپورٹ کے مطابق:​سال 2026 میں اب تک گوجرانوالہ ڈویژن میں مجموعی طور پر 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پیش آئے۔​ضلع گوجرانوالہ میں سب سے زیادہ 158 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹیں۔​گجرات میں 2 اور منڈی بہاؤالدین میں 4 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔​سرکاری وکیل نے بتایا کہ سال 2024 میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا، جبکہ 2025 میں 30 افراد کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات سامنے آئے۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ان اعداد و شمار پر سخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آر پی او سے استفسار کیا کہ کیا یہ پولیس کا کوئی نیا میکنزم ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ "2024 میں کوئی ایک ملزم نہیں گرا، جبکہ 2026 میں اچانک 186 لوگ گر گئے اور ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہے"۔
​جسٹس فاروق حیدر نے آر پی او سے مکالمہ کیا کہ "آپ نے خود اس معاملے کو دیکھا ہے؟" جس پر آر پی او خرم شہزاد نے اثبات میں جواب دیا۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بطور سپروائزری آفیسر یہ آپ کی ذمہ داری ہے، آپ کی انکوائری سے ہماری تسلی نہیں ہوتی، آپ کو اس معاملے کا خود جائزہ لینا ہوگا اور اگر کوئی ملوث پایا گیا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا۔آر پی او گوجرانوالہ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ان تمام واقعات کی خود انکوائری کر رہے ہیں اور مستقبل میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی زیر حراست ملزم کی غیر قانونی طور پر ٹانگ نہ ٹوٹے۔
دورانِ سماعت ملزم ابوبکر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا ہے، برآمدگی بوگس ہے اور گرفتاری کے وقت ویڈیو بھی نہیں بنائی گئی۔ تاہم، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کا سابقہ ریکارڈ اور کیس کے حقائق مدنظر رکھتے ہوئے اس کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔
جسٹس فاروق حیدر نے قرار دیا کہ پولیس حراست میں ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے سنگین معاملے پر عدالت علیحدہ سے ایک  تحریری حکم نامہ جاری کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

Ansa Awais

Content Writer