کلیم اختر: کارپوریٹ شعبے میں شفافیت اور سکیورٹی بڑھانے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سیکورٹیز اینڈ ایکسینچ کمیشن آف پاکستان نے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب شیئرز کے روایتی نظام کو ختم کیا جا رہا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق غیر لسٹڈ کمپنیوں کے فزیکل شیئر سرٹیفکیٹس ختم کر دیے گئے ہیں اور تمام کمپنیوں کو اپنے شیئرز کو بک انٹری (ڈیجیٹل) فارم میں منتقل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کی شیئر ٹرانزیکشن ممکن نہیں ہوگی۔
ایس ای سی پی کی ہدایات کے تحت اب شیئرز کی خرید و فروخت، منتقلی، بونس ایشو یا دیگر کسی بھی کارروائی سے پہلے مکمل ڈیجیٹل تبدیلی ضروری قرار دی گئی ہے۔ تمام لین دین صرف Central Depository System کے ذریعے ہی ممکن ہوگا، جبکہ کمپنیوں کو اس سسٹم میں رجسٹریشن اور مکمل ریکارڈ کی انٹری یقینی بنانا ہوگی۔
مزید برآں، شیئر ہولڈرز کے لیے بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شیئرز کو بک انٹری فارم میں منتقل کریں، بصورت دیگر وہ کسی بھی ٹرانزیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت شیئرز کی الاٹمنٹ، ٹرانسفر، بائی بیک سمیت تمام عمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل ہوگا، اور ہر ٹرانزیکشن کے ساتھ کمپنیوں کو سی ڈی ایس ریکارڈ اور متعلقہ رپورٹس جمع کروانا ہوں گی۔
اس کے علاوہ فارم 3، فارم اے اور فارم 27 کے ساتھ اضافی ڈیجیٹل دستاویزات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
حکام کے مطابق فزیکل شیئر سرٹیفکیٹس کو منسوخ کر کے 10 سال تک محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جبکہ کسی تنازع یا رکاوٹ کی صورت میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے خصوصی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
اس اقدام سے توقع ہے کہ شیئر مارکیٹ میں شفافیت، سکیورٹی اور ریکارڈ کی درستگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔