ملک اشرف : پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد پنجاب حکومت، سیکرٹری بلدیات اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ابوذر سلمان نیازی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیاکہ پنجاب حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 آئینِ پاکستان سے متصادم ہے، کیونکہ اس میں بیورو کریسی کو ایسے اختیارات دیئے گئے ہیں، جو منتخب عوامی نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ درخواستگزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل ہونا لازمی ہیں، لیکن نئے ایکٹ کے تحت انتظامی اور مالیاتی امور میں افسرشاہی کو بالادستی دی گئی ہے، جو جمہوری اصولوں کیخلاف ہے۔ مزید کہا گیا کہ حکومت نے غیرجماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا جوکہ آئین کے آرٹیکل17 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آئین شہریوں کو تنظیم سازی اور سیاسی وابستگی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ غیرجماعتی انتخابات اس حق کو سلب کرتے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025 کی وہ دفعات جو بیوروکریسی کو اختیارات دیتی ہیں اور غیرجماعتی انتخابات سے متعلق ہیں، انہیں کالعدم قراردیا جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا اور مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔