خان شہزاد:شہر کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا طوفان بدستور جاری ہے، جہاں سپر اسٹورز پر دالوں کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں,بڑھتی ہوئی مہنگائی نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور لوگ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے شدید پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
شہریوں کے مطابق مختلف اقسام کی دالیں تقریباً دوگنی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں جس سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دال ماش دھلی کی سرکاری قیمت 410 روپے فی کلوگرام مقرر ہے، تاہم سپر اسٹورز پر یہی دال 710 روپے فی کلوگرام میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دال چنا کی سرکاری قیمت 220 سے 250 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ سپر اسٹورز پر اسے 300 سے 320 روپے فی کلوگرام تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
عوام نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کی جائے تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں لایا جائے۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سپلائی کے مسائل، مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت گرانفروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور مارکیٹ میں سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔