ملک اشرف : ہائیکورٹ نے سی سی ڈی تحویل سے ملزم کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔متعلقہ شخص مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد جواد ظفر نے سائلہ نصرت بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے بیٹے فیصل احسان کو حراست میں لیا گیا ، عدالت اس کی بازیابی کا حکم دے۔سماعت کے دوران ایس پی ، سی سی ڈی ناصرعباس پنجوتا سمیت دیگر پولیس افسران عدالت پیش ہوئے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رانا عمیر ابرار پیش ہوئے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے سی سی ڈی کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔ مؤقف اختیار کیا کہ ملزم فیصل احسان 25 فروری 2026 کو رات دس بجے نیپال سے پاکستان پہنچا ۔
ایئرپورٹ پر امیگریشن ، ایف آئی اے افسران نے ملزم کو سی سی ڈی کے حوالے کیا۔ ملزم پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا ۔سی سی ڈی سرگودھا ملزم کو ریکوری کیلئے لے جارہی تھی۔راستے میں ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزم مارا گیا ۔لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مارا جا چکا اس لئے بازیابی سے متعلق درخواست غیر مؤثر ہوچکی۔جسٹس محمد جواد ظفر نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ
جس کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی وہ اس دنیا میں نہیں۔آپ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں یا عدالت میرٹ پر فیصلہ کردے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہاہم پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست واپس لینے کی بناء پر خارج کردی۔