(ریحان گل)اسٹامپ پیپر ایک ایسا کاغذ ہوتا ہے جس کی پیشانی پر اس کی مالیت لکھی ہوتی ہے اور باقی حصہ خالی ہوتا ہے،اسٹامپ پیپر حکومت جاری کرتی ہے اس کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جاتی ہے جبکہ اس اسٹامپ پیپر کو فروخت کرنے والے اسٹامپ فروش کو معمولی کمیشن چار فیصد سے پانچ فی صد تک دیا جاتا ہے، عدالت میں کوئی درخواست دائر کرنےاور کسی سے کاروباری معاہدہ کرنے اور جائیداد فروخت کرنے یا کسی کے نام کروانے کیلئے اسٹامپ پیپر کی ضرورت ہوتی ہے، سٹامپ پیپر حلف نامہ ، اقرار نامہ ، ایگریمنٹس سمیت مختلف معاہدوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
پنجاب میں چھوٹے اسٹامپ پیپرز کی فروخت میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس کی وجہ سے چھوٹے اسٹامپ پیپرزکو بھی ای اسٹامپ منصوبے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹامپ پیپرز کی مد میں ہونیوالی بے ضابطگیاں روکنے کیلئے ای اسٹامپ منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جس میں 1000 روپے سے اوپر کی مالیت کے اسٹامپ پیپرز شامل کیے گئے۔
اعدادوشمار کے مطابق اب تک 62 لاکھ 35 ہزار 300 اسٹامپ پیپرز کی فروخت سے 174 ارب سرکاری خزانے میں جمع ہوئے ہیں، لیکن چھوٹے اسٹامپ پیپرز کی غیر قانونی فروخت کی مد میں 3 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے کیونکہ گزشتہ تین سال سے اسٹامپ فروشوں نے سرکاری ٹریژری سے اسٹامپ پیپرز وصول نہیں کیے، لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں چھوٹے اسٹامپ پیپرز فروخت کئے جارہے ہیں، جس پر اب ای اسٹامپ منصوبے کا دائرہ چھوٹے اسٹامپ پیپرز تک پھیلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 50 روپے تک کےاسٹامپ پیپرز بھی ای اسٹامپ منصوبےمیں شامل کیے جائیں گے جس کیلئے بورڈ آف ریونیو نے رولز میں ترمیم شروع کردی ہے، منصوبے کے تحت 36 اضلاع میں رجسٹریشن سنٹرز کے ذریعے تمام چھوٹے بڑے اسٹامپ فروشوں کو بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے رجسٹرڈ کیا جائے گا جنہیں سمارٹ کارڈز جاری کئے جائیں گے، کسی غبن یا بے ضابطگی پر ان کا سٹیٹس ڈی ایکٹو کردیا جائے گا۔