ویب ڈیسک :عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو معمولی ردوبدل دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 21 سینٹ کمی کے بعد 95.24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 10 سینٹ کمی کے ساتھ 92.94 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکا-ایران مذاکرات میں سست روی کے باعث تیل کی منڈی دباؤ کا شکار ہے۔ لبنان میں مجوزہ جنگ بندی معاہدے کو حزب اللہ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں امن کی امیدوں کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تاحال محدود ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈی میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادھر اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باوجود رواں سال عالمی سطح پر تیل کی طلب میں 1.2 ملین بیرل یومیہ اضافے کی پیشگوئی برقرار ہے۔
دوسری جانب شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات گزشتہ چھ برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکی بحری پابندیاں قرار دی جا رہی ہیں، تاہم چین میں کمزور طلب نے بھی ایرانی تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔