سٹی 42:شہریوں کو سستی پروٹین ملنے کی امید ایک بار پھر جاگ اٹھی۔
کئی ماہ سے چکن کی قیمت حکومت کے کنٹرول اور کنزیومرز کی استطاعت سے باہر ہے اور پولٹری مافیا کے کارندے پبلک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اب حکومت نے ایک بار پھر ہمت کر کے پولٹری مافیا سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اب چکن کی قیمتیں ریگولیٹ ہوں گی اور پولٹری مافیا کی من مانی نہیں چلے گی ، کیونکہ پرائس کنٹرول کونسل کے سربراہ اور وزیر صنعت چوہدری شافع حسین نے حکم دیا ہے کہ مرغی کی مارکیٹوں میں سپلائی پر کڑی نظر رکھی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر زندہ مرغی اور چکن کی قیمت جاری کی جائے۔
وزیر صنعت چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کونسل کا 7 واں اجلاس ہوا، پیسک ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں یک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا،اجلاس میں مرغیوں کی مارکیٹ میں دستیابی اور قیمتوں کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا
معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیزڈیپارٹمنٹ سلمیٰ بٹ ،سیکرٹری ڈاکٹر احسان بھٹہ،سیکرٹری انڈسٹریز محمد عمر مسعود اورمتعلقہ محکموں کے افسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔
پرائس کنٹرول کونسل کی زندہ مرغی و گوشت کی قیمتوں کے تعین کے میکانزم میں نظر ثانی کی منظوری دے دی ، اب زندہ مرغی و مرغی کے گوشت دونوں کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر نوٹیفکیشن ہوگا
پرائس کنٹرول کونسل نے مرغی کے گوشت کی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کیلئے فیصلہ کیا،صوبائی وزیر چوہدری شافع نے کہا عوام کو مرغی کے گوشت کی سستے داموں فراہمی کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھائیں گے ،مرغی کی مارکیٹوں میں سپلائی پر کڑی نظر رکھی جائے ،پولٹری فارمز کو مرغیوں کی بیماریوں سے بروقت آگاہی دینا ضروری ہے ۔

کئی ماہ سے شہریوں کو مرغی کا گوشت مہنگے داموں مل رہا ہے۔ ابتدا میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے پرائس کنترول میجسٹریٹوں کے ذریعہ مرغی اور چکن کی قیمت کو کم کروانے کی کوشش کی، لیکن مرغی مافیا نے تعاون کرنے اور خوف زدہ ہونے کی بجائے التٓ حکومت کو ہڑتالوں کی دھمکیاں اور عدالتی قانونی کارروائیوں کی دھمکیاں دین۔ بعد مین ضلعی انتظامیہ نے مرغی اور مرغی کے گوشت کی قیمت مقرر کرنا ہی بند کر دیا۔ اب ایک بار پھر وزیراعلیٰ کی خوہش پر پنجاب حکومت مرغی مافیا سے جنگ کرنے کا اعلان تو کر رہی ہے لیکن اس اعلان پر عمل درآمد کروانے مین وہ کتنی کامیاب ہو گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔