ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وہ شیر جو آج بھی زندہ ہے

وہ شیر جو آج بھی زندہ ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی 27 ویں برسی آج ہے،کچھ لوگ زندگی جیتے ہیں اور کچھ لوگ تاریخ لکھتے ہیں۔کچھ نام وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں، مگر کچھ نام نسلوں کی پیشانی کا چراغ بن جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر ایسا ہی ایک روشن باب ہیں، ایک ایسا سپاہی جس نے اپنی سانسوں سے زیادہ اپنے پرچم کی حرمت کو عزیز جانا، جس نے زندگی سے بڑھ کر وطن کی بقا کو اہم سمجھا اور جس نے ثابت کیا کہ ایمان، کردار اور جرأت جب ایک دل میں جمع ہو جائیں تو پہاڑ بھی راستہ دے دیتے ہیں۔
آج ان کی شہادت کو ستائیس برس بیت چکے ہیں، مگر وقت ان کے نام کی روشنی کو مدھم نہیں کر سکا۔ آج بھی جب پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہراتا ہے تو اس کی ہر جنبش میں شہداء کے لہو کی خوشبو محسوس ہوتی ہے  اور اس خوشبو میں کرنل شیر خان شہید کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔وہ کسی دولت مند خاندان کے چشم و چراغ نہیں تھے، نہ ہی شہرت کے طالب تھے، ان کی اصل پہچان ان کا کردار تھا، ان کا عزم تھا اور ان کی وہ قسم تھی جو انہوں نے وردی پہن کر اپنے رب اور اپنے وطن سے کی تھی کہ پاکستان کی عزت، وقار اور سرحدوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
سن 1999 میں کارگل کے برف زاروں میں جب حالات انتہائی کٹھن تھے، جب ہر قدم موت کی وادی سے گزر رہا تھا تب کرنل شیر خان اپنے جوانوں کے آگے تھے، پیچھے نہیں، وہ قیادت کا وہ تصور تھے جو حکم دینے سے پہلے خود آگے بڑھتا ہے، انہوں نے ثابت کیا کہ ایک سچا سپاہی اپنے الفاظ سے نہیں اپنے عمل سے تاریخ رقم کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شجاعت کی گواہی صرف ان کے ساتھیوں نے نہیں دی بلکہ دشمن نے بھی ان کی بہادری کا اعتراف کیا۔ جنگ کے میدان میں یہ اعزاز بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے کہ مخالف بھی ان کی دلیری کو سلام کرے۔

 کارگل کی جنگ کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی آج برسی منائی جا رہی ہے
پاکستان نے انہیں نشانِ حیدر سے نوازا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل شناخت کوئی تمغہ نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو ہر پاکستانی اپنے محافظوں پر کرتا ہے۔ تمغے دھات کے ہوتے ہیں، مگر کردار فولاد سے بھی مضبوط ہوتا ہے،آج جب دنیا کے نقشے پر خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے، جب جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ نظریات، اطلاعات اور افواہوں کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہیں، تب کرنل شیر خان جیسے کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قوموں کی اصل طاقت صرف ہتھیار نہیں بلکہ اتحاد، نظم، کردار اور قربانی کا جذبہ ہوتا ہے۔یہ برسی صرف ایک شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن نہیں بلکہ خود سے سوال کرنے کا دن بھی ہے کہ  کیا ہم اپنے فرائض اسی دیانت سے ادا کر رہے ہیں جس سے ہمارے شہداء نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں؟ کیا ہم اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر پاکستان کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس وطن کی قدر جانتے ہیں جس کی حفاظت کے لیے کتنے ہی جوانوں نے اپنی جوانیاں قربان کر دیں؟قومیں اپنے شہداء کو صرف تصویروں میں نہیں سجاتیں بلکہ ان کے افکار کو اپنی زندگی کا حصہ بناتی ہیں۔ اگر ہم واقعی کرنل شیر خان شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار میں دیانت، اپنے رویّوں میں برداشت، اپنے عمل میں اخلاص اور اپنے وطن سے وفاداری پیدا کرنا ہوگی۔پاکستان کی مسلح افواج کے وہ سپوت جو آج بھی برف پوش چوٹیوں، تپتے ریگستانوں، دشوار گزار پہاڑوں اور سرحدی چوکیوں پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، ان کے حوصلے کی بنیاد بھی انہی شہداء کی قربانیاں ہیں۔ ایک قوم کا اعتماد اپنے محافظوں کے لیے طاقت بنتا ہے، اور محافظوں کی قربانیاں قوم کے لیے ڈھال۔

آج جب ہم کرنل شیر خان شہید کو سلام پیش کرتے ہیں تو دراصل ہم اس فکر کو سلام پیش کرتے ہیں جو کہتی ہے کہ وطن امانت ہے فرض عبادت ہے اور شہادت زندگی کی معراج ہے۔کرنل شیر خان شہید آج بھی زندہ ہیں،وہ ہر اس سپاہی کی آنکھ میں زندہ ہیں جو سرحد پر پہرہ دے رہا ہے۔وہ ہر اس ماں کی دعا میں زندہ ہیں جو اپنے بیٹے کو وطن کی حفاظت کے لیے رخصت کرتی ہے،وہ ہر اس بچے کے خواب میں زندہ ہیں جو سبز ہلالی پرچم کو دیکھ کر فخر محسوس کرتا ہےاور وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے کیونکہ جو لوگ اپنے خون سے وطن کی تاریخ لکھتے ہیں انہیں وقت نہیں مٹاتا نسلیں سلام کرتی ہیں۔
سلام کیپٹن کرنل شیر خان شہید! سلام نشانِ حیدر!سلام پاکستان کے ہر اس شہید کو جس کے لہو نے اس وطن کی آزادی، عزت اور وقار کو ہمیشہ سربلند رکھا۔