ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ذہنی مریض؛  پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر چئیرمین پی ٹی آئی کا جواب

Zehni Mareez, Zahni Mariz, City42, Barestor Gohar, PTI Policy statement, ISPR, General Ahmad Sharif , Narative war,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹرگوہرعلی خان  نے  آج مسلح افواج کے ترجمان کے انتہائی سیدھے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا  "پی ٹی آئی کے بیانیہ" کا سارا الزام "کچھ نان سٹیک ہولڈر" شخصیات پر تھوپ دیا اور دعویٰ کیا کہ  بانی سے ملاقات کرنے کی اجازت ہو تو صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

 بیرسٹر گوہر نے اپنے کرپشن کیسز مین قید کی سزا کاٹنے کے دوران پاکستان کی ریاست کی انتہائی ھساس پالیسیوں، دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ، مسلح افواج کے متعلق ہر چیز پر تنقید کرنے والے لیڈر کو" ذہنی مریْض" قرار دیئے جانے کو افسوس ناک قرار دیا   اور کہا  کہریاستی ادارےاورسیاسی لوگ ایک دوسرےکوذہنی مریض کہے یاخطرہ سمجھیں تو یہ افسوسناک ہے۔

بیرسٹر گوہر نے  مسلھ افواج کے ترجمان کے بیان کئے ہوئے تمام حقائق کو نظر انداز کر دیا اور روایتی بیان دیا کہ  آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے ،یہ وقت ہے کہ سب ایک دوسرےکوتسلیم کریں،جگہ دیں اوراعتمادکےفقدان کوختم کریں۔ 

بیرسٹر گوہر نے کہا، ملک کادفاع اہم ہے، انہوں نے آئی ایس پی آر کے ترجمان کے بیان کردہ حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کابیانیہ کبھی ملک دشمن نہ ہے،نہ ہوگا۔

 تناؤکم اورتعلقات میں بہتری آئے ،بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا،  پاکستان بھی ہمارااورفوج بھی ہماری ہے۔ ہم نے اس کا عملی مظاہرہ کیااورکریں گے۔ تمام جمہوریت پسندقوتوں سےاپیل کرتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنےمیں کردار ادا کریں۔

بیرسٹر گوہر نے آج جمعہ کی سہ پہر ہونے والی  انتہائی غیر معمولی نیوز کانفرنس کے نیوز چینلز سے براہ راست نشر ہونے کے کئی گھنٹے بعد تک مکمل خاموش رہنے کے بعد  جمعہ کی رات یہ مؤقف اختیار کیا  کہ "کچھ نان سٹیک ہولڈرزکاطرزعمل"  پی ٹی آئی اوراداروں کےدرمیان تناؤکاسبب نہیں بنناچاہیے.

بیرسٹر گوہر نے کہا، بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی جیل میں ہیں۔ ان سے ملاقاتوں کی اجازت ہو تو ہم بہتری کی طرف چلے جائیں گے۔  ملک تناؤ اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

 منگل کے روز جب عظمی خان اور علیمہ خان اڈیالہ جیل کے قریب ایک پولیس ناکے پر جمع ہونے والے میڈیا کے نماندوں کو بتا رہی تھیں کہ ان کے بھائی نے جیل سے یہ پیغام بھیجا ہے کہ افغانستان کے طالبان ٹھیک ہیں اور پاکستان کی ریاست کی پالیسیاں غلط ہیں، اس وقت بیرسٹر گوہر عظمیٰ خان اور علیمہ خان کے پیچھے خاموش کھڑے تھے۔ انہوں نے بعد میں بھی اپنے بانی کی اس ہرزہ سرائی پر کوئی تنقید نہیں کی تھی۔ عظمیٰ کان نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ بانی نے کن کن لوگوں کی بات ماننے کی ہدایت کی ہے، ان مین بیرسٹر گوہر کا نام شامل نہین تھا۔