بجلی کے جدید میٹروں، بلنگ سسٹم کی سپلائی کیلئے خریداری کا طریقہ چیلنج

بجلی کے جدید میٹروں، بلنگ سسٹم کی سپلائی کیلئے خریداری کا طریقہ چیلنج

ملک اشرف: بجلی کے جدید میٹروں ، بلنگ سسٹم کے نئے آلات کی سپلائی کے لئے خریداری کا طریقہ کار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج، عدالت نے لاہور الیٹرک سپلائی کپمنی کی 20 اگست کو ہونے والی بڈنگ روک دی اور چیئرمین لاہور الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پچیس ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔

جسٹس شاہد مبین نے گرین انڈسٹریل سلوشن کے وسیم ارشد کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ لاہور الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی نے سرکل چار اور پانچ کے لئے جدید میٹرز، بلنگ سسٹم کے الات کی سپلائی کا فیصلہ کیا۔ لاہور سپلائی کمپنی نے بڈنگ کے لیے 25 مئی کو اخبارات میں اشتہارات دیے گئے، پاکستان انجینرنگ کونسل کے بائی لاز کے مطابق غیر ملکی اکمپنیاں جوننٹ وانچر کے بغیر بڈنگ میں حصہ نہیں لے سکتی، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے رولز کے سیکشن 52 کے تحت غیرملکی کمپنیا ں جوانٹ ایڈوانچرکے بغیر حصہ لینے کی مجاز نہیں۔

بابر اعوان ایڈوکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت 12 غیرملکی کمپنیاں جوائنٹ وینچرز کے بغیر بڈنگ میں حصے لے رہی ہیں، بڈنگ ہی حصہ لینے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو جوائنٹ وینچرز کے ساتھ لیسکو انجینئرنگ کونسل اور ایس ای سی سی میں بھی دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہے۔ اکیلی غیرملکی کمپنیوں کے بڈنگ میں حصہ لینے کا اقدام غیر قانونی ہے اس سے ملکی صنعت بری طرح متاثر ہوگی، درخواست گزار وکیل کا کہنا تھا کہ میٹروں کی سپلائی کے لئے بڈنگ کے لیے اب 20 اگست کی تاریخ مقرر ہے،۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت بجلی کے جدید میٹروں اوربلنگ سسٹم کی سپلائی کے لئے نیلامی کے اقدام کو کالعدم قرار دے اور عدالتی فیصلے تک بڈنگ کا عمل روکا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل کے دلائل سننے کے بعد حکم امتناہی جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

Shazia Bashir

Content Writer