ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیسٹ کرکٹ کے5 بدقسمت کھلاڑی، ہزاروں رنز بنائے لیکن سینچری سے محروم

ٹیسٹ کرکٹ کے5 بدقسمت کھلاڑی، ہزاروں رنز بنائے لیکن سینچری سے محروم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں کچھ ایسے اعداد و شمار  ہیں جو کھلاڑی کی عظمت تو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ادھورے خواب کی داستان بھی رقم کرتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں گراؤنڈز میں اکثر بیٹسمین’’ نروس نائنٹیز‘‘ کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن کچھ معروف کھلاڑی ایسے بھی رہے جنہوں نے بدقسمتی سے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ہزاروں رنز  بنائے مگر کبھی سینچری تک نہیں پہنچ سکے۔ آج آپ کو ان پانچ کھلاڑیوں کے بارے میں بتائیں گے، جنہوں نے ٹیسٹ کیریئر میں ہزاروں رنز بنائے، لیکن بدقسمتی سے وہ سینچری بنانے میں ناکام رہے۔

1....شین وارن

آسٹریلیا کے معروف اسپنر شین وارن کا نام اس فہرست میں سب سےپہلےآتا ہے۔ وارن نے 1992 سے 2007 کے درمیان 145 ٹیسٹ میچ کھیلے اور سب سے زیادہ 3154 رنز بنائے۔ یہ کسی بھی ایسے بلے باز کے سب سے زیادہ رنز ہیں جس نے کبھی سنچری نہیں بنائی۔ شین وارن کی کہانی سب سے زیادہ دردناک اسلئے ہے کیونکہ وہ اپنی سنچری کے بہت قریب پہنچ کر غلطی کر بیٹھے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں  99 رنز بنائے تھے اور ڈینیئل ویٹوری کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ وارن نے اپنے کیریئر میں 12 نصف سنچریاں بنائیں اور 353 چوکے لگائے، لیکن وہ  100 کے ہندسے سے ایک رن دور رہ گئے۔

 2....نیروشن ڈکویلا
سری لنکا کے وکٹ کیپر بلے باز نیروشن ڈکویلا اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ 2014 سے 2023 کے درمیان ڈکویلا نے 54 میچوں میں 2757 رنز بنائے۔ انکی بیٹنگ کا اسٹرائیک ریٹ 66.46 رہا، جو ٹیسٹ میں کافی متاثر کن مانا جاتا ہے۔ ڈکویلا نے 22 بار نصف سنچری  بنائی، جو اس فہرست میں موجود کسی بھی کھلاڑی سے زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود، ان کا سب سے زیادہ اسکور 96 رنز ہی رہا۔

 3....مچل اسٹارک
آسٹریلیا کے فاسٹ بالر مچل اسٹارک اپنی فاسٹ بالنگ اور اپنی جارحانہ بیٹنگ کے حوالے سے مشہور ہیں۔ 2011 سے 2026 تک کے اپنے شاندار کیریئر میں اسٹارک نے 105 میچوں میں 2478 رنز بنائے ہیں۔ شین وارن کی طرح اسٹارک بھی 99 کے چکر میں پھنس چکے ہیں۔ بھارت کے خلاف موہالی ٹیسٹ میں وہ 99 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے۔ اسٹارک کے اعداد و شمار میں سب سے دلچسپ بات ان کے چھکے ہیں۔ انہوں نے اب تک 49 چھکے لگائے ہیں، جو لوئر آرڈر بلے باز کے طور پر ان کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 13 نصف سنچریاں بنانے کے بعد بھی اسٹارک آج بھی اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کی تلاش میں ہیں۔

4....ٹم ساؤتھی 
نیوزی لینڈ کے سابق کپتان ٹم ساؤتھی  اس فہرست میں ایک منفرد نام ہیں۔ 107 میچوں میں 2245 رنز بنانے والے ساؤتھی کا بیٹنگ انداز کسی ٹی20 میچ جیسا لگتا ہے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 82.68 ہے، جو وریندر سہواگ جیسے عظیم کھلاڑیوں کی یاد دلاتا ہے۔ ساؤتھی نے اپنے کیریئر میں 98 چھکے لگائے ہیں، جو انہیں ٹیسٹ تاریخ کے بڑی ہٹ مارنے والوں میں شامل کرتا ہے۔ تاہم، ان کا سب سے زیادہ اسکور ناٹ آؤٹ 77 رنز رہا۔ ساؤتھی نے کبھی کریز پر ٹھہر کر لمبی اننگز کھیلنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ ہمیشہ تیزی سے رنز بنانے کی کوشش میں رہے،اسی وجہ سے وہ سینچری بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور 7 نصف سنچریاں ہی بنا سکے۔

5....چیتن چوہان
بھارت کے معروف اوپننگ بیٹسمین چیتن چوہان کی کہانی باقی چاروں کھلاڑیوں سے مختلف ہے۔ جہاں اوپر دیے گئے تین کھلاڑی بنیادی طور پر گیندباز ہیں، وہیں چوہان ایک ماہر اوپننگ بلے باز تھے۔ سنیل گواسکر کے ساتھ ان کی جوڑی مشہور تھی، 1969 سے 1981 کے درمیان 40 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 2084 رنز بنائے۔ انہوں نے 16 نصف سنچریاں بنائیں اور کئی بار سنچری کے قریب پہنچے، جن میں 97 رنز ان کا بہترین اسکور رہا۔  چیتن چوہان کی اوسط 31.57 اس فہرست میں سب سے بہتر ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ ایک بہترین تکنیک والے بلے باز تھے۔