(شاہد جان) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ میں قومی امن جرگہ کے قائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہ ہے کہا سب اس بات پر متفق ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں،جنگ نے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا۔ ہم مزید ایسے حالات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ضم اضلاع کیلئے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی قبائل پیکج لایا جا رہا ہے، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ضلع باجوڑ میں قومی امن جرگہ قائدین سے ملاقات کی، جس میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی مشران کی امن کے لیے جدوجہد قابلِ تحسین ہے،آپ نے جس دانشمندی سے حالات کو سنبھالا وہ قابلِ قدر ہے، امن سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہے،اس کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔صوبائی حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ اعلامیہ پیش کیا۔سب اس بات پر متفق ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں، جنگ نے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا۔ ہم مزید ایسے حالات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ امن اور خوشحالی کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں،بدامنی کے حالات دوبارہ نہ آئیں، اس کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی،تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر فرائض انجام دیں تو امن بھی قائم ہو جائے گا اور مسائل بھی حل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی قبائل پیکج لایا جا رہا ہے، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔