وسیم عظمت: چین کا امریکہ کی پروڈکٹس پر ٹیرف نافذ کرنے کے اعلان دنیا کی معیشت کو چند ہفتوں میں دوسرا شدید جھٹکا ثابت ہواہے۔ یہ دراصل جنوری سے دنیا پر نازل ہو رہے ٹرمپ ٹیرفس کے امپیکٹ کی حقیقی ابتدا ہے۔ دنیا ڈھائی ماہ سے اس امپیکٹ سے خوفزدہ تو ہے لیکن اس کے کسی طرح ٹل جانے کی فیلیسی کے ساتھ آگے برھتی جا رہی تھی، لیکن جمعہ کو وہ ہو گیا جس کا ڈر تھا۔
دنیا کی معیشت اس وقت جزواً ہلی تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین اور دنیا کے بہت سے دوسرے ملکوں پر بیٹھے بٹھائے ٹیرف امپوز کر دیئے تھے، کیونکہ امریکہ جیسی ریاست سے کسی کو ایسے ایڈونچر کی توقع نہیں تھی حالانکہ یہ ٹیرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا ایک نعرہ تھے تب بھی دنیا نے اسے اس وقت تک سیریسلی نہیں لیا جب تک ترمپ نے یہ کر نہیں ڈالا۔ اس دن کے بعد سے دنیا کی معیشت بار بار جھٹکے کھا رہی ہے جب ٹرمپ کے اعلان کردہ ٹیرف نافذ ہوتے ہیں ور جب کوئی ملک ان ٹیرفس کے ردعمل میں امریکہ کی پروڈکٹس پر ٹیرف نافذ کرتا ہے۔ یہ سب جھٹکے معیشت کو مسلسل ہلا رہے تھے کہ چین نے بھی امریکہ کے ٹیرف کے جواب میں امریکی پروڈکٹس پر ٹیرف نافذ کر دیئے۔ اس جواب سے دنیا کی معیشت کو ایسا جھٹکا لگا کہ سب کچھ اتھل پتھل ہو کر رہ گیا ہے۔
چین نے امریکی اشیا پر 34 فیصد ٹیرف کے ساتھ ٹرمپ پر جوابی حملہ کیا تو عاملی مارکیٹ شدید صدمے سے دوچار ہو گئیں حالانکہ یہ جواب عین متوقع تھا اور اس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔
چین جس کا کہنا ہے کہ وہ ڈبلیو ٹی او میں محصولات کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا اس نے امریکہ کی پروڈکٹس پر 34 فیصد ٹیرف امپوز کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ طبی ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے نایاب دھاتوں پر برآمدی کنٹرول نافذ کر رہا ہے۔ ان دھاتوں کی امریکہ میں مستقل ضرورت رہتی ہے۔
چین نے جمعہ کو امریکی درآمدات پر 34 فیصد محصولات کا اعلان کیا تو تب سے ایشیا اور مغربی ممالک کی مارکیٹیں جھٹکے کھا رہی ہیں۔
چین دراصل بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت نئے محصولات کے خلاف جوابی کارروائی کرنے والی پہلی بڑی معیشت ہے جس نے مارکیٹوں کو ڈپریشن میں ڈال دیا ہے۔
اس سے پہلے کے دنوں مین دنیا کو معلوم تو تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے اور معیشت کو کیا سنگین صورتحال درپیش ہے تاہم تمام ممالک اور کمپنیوں نے یکساں طور پر اپنے اپنے اختیارات پر غور کیا اور یورپی یونین نے خود کو امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار کیا۔ کینیڈا نے تو جوابی ٹیرف نافذ کر بھی دیئے اور امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلق ختم کر کے اسے عمومی تعلق بلکہ اس سے بھی قدرے نچلے درجہ کے تعلق میں بدل دیا، دوسرے ملکوں کے ممکنہ ردعمل میں بھی انتقامی ٹیرف یا دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں جو تجارتی جنگ کو بڑھا سکتے ہیں جس نے کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ لیکن چین نے جب وہی کیا جس کی سب کو توقع تھی تو مارکیٹوں مین کمر ٹوٹ جانے جیسا شاک مھسوس کیا جا رہا ہے۔
چین - جو ریاستہائے متحدہ کے اعلی تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے - اس نے سب سے پہلے اعلان کیا کہ تمام امریکی درآمدات پر 34% کے محصولات 10 اپریل سے لاگو ہوں گے اور کہا کہ وہ امریکہ کے اچانک بلاجواز ٹیرف نافذ کرنے پر عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں مقدمہ دائر کرے گا۔
چین کی کسٹم انتظامیہ نے کہا کہ اس نے دو امریکی سپلائرز، ماؤنٹیئر فارمز آف ڈیلاویئر اور کوسٹل پروسیسنگ سے چکن کی درآمد معطل کر دی ہے۔ اس تقزیری کارروائی کے جواز میں کہا گیا ہے کہ چینی کسٹمز نے بار بار ان کمپنیوں کے چکن گوشت کی کنسائنمنٹس میں فیورازولائیڈون furazolidone کا پتہ لگایا ہے جو کہ چین میں ممنوعہ دوا ہے۔
مزید برآں، چینی حکومت نے کہا کہ اس نے 27 امریکی فرموں کو ان کمپنیوں کی فہرستوں میں شامل کیا ہے جن پر تجارتی پابندیاں یا برآمدی کنٹرول ہیں۔
سٹاک مارکیٹوں میں شئیرز کی قیمتیں کھربوں ڈالر کم ہو گئیں
جمعرات کو خون کے غسل کے بعد ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں کے نقصانات میں بے پناہ اضافہ ہواا جس نے نیو یارک کے سٹاک مارکیٹ کے ایس اینڈ پی فائیو ہنڈرڈ انڈیکس میں 4.8 فیصد کی کمی کر دی جو 2021 کے کووڈ پینڈیمک بحران کے بعد سے اس انڈیکس میں سب سے بڑی کمی کا جھٹکا ہے۔
یورپ میں، فرینکفرٹ میں جمعہ کو دوپہر کے بعد انڈیکس میں 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ پیرس میں شئیرز کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ اور لندن میں تقریباً 3.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔
ٹوکیو کا نکی انڈیکس 2.8 فیصد نیچے بند ہوا، وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا نے ٹرمپ کے محصولات کو جاپان کے "قومی بحران" کے طور پر بیان کیا۔
ٹرمپ کا حقیقت سے لاتعلق ردعمل؛ بے یقینی اور مایوسی کے سمندر میں ڈوبتی مارکیٹیں ٹرمپ کو بوم دکھائی دیتی ہیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو اپنے پیداکردہ عذاب میں مبتلا کرنے کے بعد اپنے فلوریڈا کے گولف ریزورٹ میں ایک ہفتے کے آخر میں روانہ ہوئے تو ان کا صحافیوں سے سامنا ہوا (یا کروایا گیا)، ٹرمپ نے کمال ڈھٹائی سے جمعرات کو دنیا کی مارکیٹوں میں ہوئی اتھل پتھل کو مسترد کرتے ہوئے صحافیوں سے اصرار کیا، اسٹاک "بوم" ہوگا۔
ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی کا اعلان کیا، جو ہفتے کے روز شروع ہونے والی ہے۔ اور اگلے ہفتے سے امریکی پورٹس پر درجنوں مخصوص ممالک کی درآمدات پر اس سے کہیں زیادہ محصولات لاگو ہوں گے۔
متاثرہ ممالک نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف پر تنقید تو کی ہے لیکن، چین کے سوا، سب نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے، اب تک خود کو جوابی اقدامات کو روکا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ آج پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ٹرمپ کے ٹیرفس 17 فیصد سے 29 فیصد کر دینے کے جواب میں یہی کیا کہ دو کمیٹیاں بنا دیں اور کہا، ہم مذاکرات کرین گے۔
یورپی یونین کی از حد محتاط حکمت عملی
یوروپی یونین کے تجارتی سربراہ ماروس سیفکووچ جمعہ کو امریکی ہم منصبوں سے بات کرنے والے ہیں جب ٹرمپ نے 20٪ ٹیرف کے ساتھ 27 ممالک کے بلاک کو نشانہ بنایا۔
یورپی یونین کے لیڈر سیفکووچ نے جمعرات کو کہا کہ یورپی یونین "پرسکون، احتیاط سے مرحلہ وار، متحد طریقے سے" کام کرے گی اور بات چیت کے لیے وقت دے گی لیکن انہوں نے بلاک کو متنبہ بھی کیا کہ "اگر ہم کسی منصفانہ معاہدے تک پہنچنے کے قابل نہیں رہیں گے تو خاموش نہیں رہیں گے۔"
جرمن اور فرنچ حب الوطنی
فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ یورپی یونین امریکی ٹیک کمپنیوں پر ٹیکس لگا کر جواب دے سکتی ہے۔
وزیر اقتصادیات ایرک لومبارڈ نے فرانسیسی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ "حب الوطنی" کا مظاہرہ کریں جب صدر ایمانوئل میکرون نے دلیل دی کہ اگر وہ (فرنس انویسٹر) امریکہ میں سرمایہ کاری کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس سے غلط پیغام جائے گا۔
ایرک لومبارڈ نے کہا کہ یورپی یونین کی جوابی کارروائی میں لازمی طور پر "ٹِٹ فار ٹیٹ ٹیرف" شامل نہیں ہوں گے اور وہ دوسرے ٹولز کا استعمال کر سکتے ہیں، ڈیٹا ایکسچینج اور ٹیکس کو لیور کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے نیوز نیٹ ورک BFMTV سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "جواب بہت مضبوط ہو سکتا ہے لیکن ہمیں بالکل انہی ہتھیاروں سے جواب نہیں دینا چاہیے جو امریکہ نے استعمال کیا، اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یورپ میں بھی اس کا منفی اثر ہو سکتا ہے"۔
جاپان کا مخمصا
جاپان دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد سے سب سے زیادہ پیچیدہ سچویشن میں ہے۔ ٹوکیو میں، وزیراعظم اشیبا نے ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے "پرسکون سر" کے نکتہ نظر پر زور دیا۔ امریکہ نے جاپانی مصنوعات کو 24 فیصد لیوی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے لیکن جاپان کی جانب سے اب تک مصالحت کی طرف لے جانے والے جملوں کے سوال کچھ نہیں کہا گیا۔ جاپان ان ملکوں میں سے ایک ہے جن کی فوج نہ ہونے کے برابر ہے اور انہیں اپنے علاقائی اور عالمی تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لئے امریکہ کی مدد کر ہمہ وقت ضرورت رہتی ہے۔
مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جاپانی حکام ایشیبا اور ٹرمپ کے درمیان فروری میں دوستانہ گفتگو کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کوشش مین آج سب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ تب بھی پرائم منسٹر اشیبا سر کو ٹھنڈا رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ اس کے سوا کچھ کر نہیں سکتے۔
آٹو شفٹ
کمپنیاں بھی اچانک نازل ہونے والے "نئے تجارتی آرڈر " کے مطابق اپنے معاملات کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
تمام غیر ملکی ساختہ کاروں پر 25% کے الگ ٹیرف بھی اس ہفتے نافذ ہوئے، اور کینیڈا نے تیزی سے امریکی درآمدات پر عین اسی طرح کے محصول کے ساتھ جواب دیا۔
Advertisement - Jeep، Chrysler اور Fiat کے مالک سٹیلینٹس- نے کچھ کینیڈین اور میکسیکن اسمبلی پلانٹس میں پیداوار روک دی ہے۔ یہ کمپنی میکسیکو اور کینیڈا میں متنوع فوائد کے لئے اسمبلی کرتی تھی، ترمپ نے اس سے کوئی مشورہ کئے بغیر "امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں گے" کا نعرہ لگا کر ٹیرفس کا ہتھوڑا مارا تو اس کی زد میں سٹیلینٹس کے کار اسمبلی پلانٹ بھی آئے۔ اگر وہ بے چارا ٹرمپ سے شکایت کرے گا تو وہ یقیناً اسے کسی بوم کی خوشخبری سنائیں گے جو بس آیا ہی چاہتا ہے۔
اس دوران ایک ردعمل جاپان کی کار ساز کمپنی نسان کا آیا ہے۔
نسان نے جمعہ کو کہا کہ وہ امریکہ میں پیداوار کم کرنے کے منصوبوں پر نظر ثانی کرے گی۔ نسان پرزے جاپان میں بناتی ہے، انہیں امریکہ امپورٹ کرتی ہے اور کارین بناتی ہے، اب اس عمل پر ٹرمپ ٹیرف لگ گئے ہیں، نسان کو اپنا نفع اگر نہیں تو نقصان سے بچنے کے متعلق تو بہرحال سوچنا پرے گا۔
نسان نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی مارکیٹ میں گاڑیوں کے ان دو ماڈلز کی فروخت بند کر دے گی جو میکسیکو کی ایک فیکٹری میں بنتے ہیں۔
سویڈن کی "وولوو " کاریں، جو چین کی گیلی کی ملکیت ہیں، اس کمپنی نے کہا کہ وہ امریکہ میں اپنی گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ کرے گی اور ممکنہ طور پر وہاں ایک اضافی ماڈل تیار کرے گی (تاکہ امریکہ سے باہر کام کرنے والے پلانٹس سے کاریں امریکہ نہ لانا پڑے کوینکہ اب ان پر ٹیرف لگ گیا ہے)۔
ٹرمپ نے اپنے ٹیرفس کا یہ ضمنی مْصد بھی بتایا ہے کہ وہ امریکہ کو غیر ملکی مینوفیکچررز پر انحصار سے آزاد بنانا چاہتے ہیں، ٹرمپ یہ کام ایک بڑے پیمانے پر معاشی تبدیلی سے کرنا چاہ رہے ہیں جسے انہوں نے "میڈیکل پروسیجر" سے تشبیہ دی ہے۔ حقیقت ضالباً یہ ہے کہ ٹرمپ اپنے ٹیرفس کے نتیجہ کو ہی اپنا مقصد بنا کر پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ جیسی آزاد معیشت میں کبھی یہ سوال ہی نہیں رہا کہ جو پروڈکٹ وہ استعمال کر رہے ہیں اس پروڈکٹ کی قومیت کیا ہے۔ اس نوعیت کی قوم پرستی کا تصور ٹرمپ کے بیشتر ووٹرز کے ذہنوں میں غالبا! اب تک نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ خود فری مارکیٹ اکانومی کے تصور کا بانی ہے اور امریکہ میں ضرورت کی تمام کموڈٹیز خود بنانے کی استطاعت ہونے کے باوجود دو دہائیوں سے پہلے ایسا ہونا ممکن نہیں ہو گا۔
بیرون ملک مظاہروں کے دوران، اور یہاں تک کہ ٹرمپ کے کچھ ریپبلکن ووٹرز کی طرف سے احتجاج کے جواب میں، جنہیں امریکہ میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، کامرس سیکرٹری ہاورڈ لوٹنک نے صبر کی تلقین کی۔
لوٹنِک نے نوکری نبھاتے ہوئے سی این این پر کہا، "ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی معیشت چلانے دیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں،"
ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل ری پبلکن ڈی سینڈ کی ابتدا
کامرس کے وزیر کے بالکل برعکس ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل ٹیرف کو "خراب پالیسی" قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔
میک کونل نے کہا کہ طویل مدتی خوشحالی کو برقرار رکھنے کے لیے "ہمارے اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، ان کے خلاف نہیں۔"
عالمی تجارت سکڑے گی!
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن WTO کے سربراہ، نگوزی اکونجو اوییالا Ngozi Okonjo-Iweala، جو کہ عالمی تجارت کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اتھل پتھل اس سال "عالمی تجارتی سامان کی تجارت کے حجم میں ایک فیصد کے سکڑاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔"
کل جمعہ کے روز دنیا کی مارکیٹوں مین جو کچھ ہوا وہ سب ابھی تک مارین کے تبصروں اور سیاسی قیادت کے بیانات اور فیصلوں مین ری فلیکٹ نہیں ہوا، یہ محض جمعرات کے روز آنے والے ابتدائی جھٹکوں پر سامنے آنےوالے کچھ ردعمل ہیں۔ آج ہفتہ ہے اور دنیا کی سٹاک مارکیٹس میں ویک اینڈ کی دو چھٹیوں کا پہلا دن ہے، ورکنگ ڈے ہوتا تو اس وقت جب پاکستان میں صبح کے دو بجے ہیں اور نیویارک میں دوپہر ہو رہی ہے، دنیا میں نیویارکک کی ڈو جون سے آہوں اور کراہوں کی آوازیں پہنچ رہی ہوتیں۔