اشرف خان درآمدی کپاس کی کلیئرنس میں پیدا ہونے والے بحران کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ میتھائل برومائیڈ کی کلیئرنس نہ ہونے سے درآمدی کپاس کی فیومیگیشن کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہے۔جس کی وجہ سےٹیکسٹائل صنعت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔
اپٹما کے مطابق 400 سے 500 درآمدی کپاس کے کنٹینرز بندرگاہ پر پھنس چکے ہیں، جس کے باعث بروقت کلیئرنس ناممکن ہو گئی ہے۔
اپٹما کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر کپاس کے کنٹینرز کی تاخیر سے ٹیکسٹائل صنعت کو روزانہ ایک کروڑ روپے سے زائد نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ خام مال کی فراہمی متاثر ہونے سے پیداواری عمل میں تعطل اور برآمدی آرڈرز بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
اپٹما نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تنظیم نے حکومت سے فوری مداخلت، میتھائل برومائیڈ کی کلیئرنس بحال کرنے اور درآمدی کپاس کی بلا تاخیر کلیئرنس یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔