ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

6سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی کیس،عدالت نے مہلت دیدی

6سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی کیس،عدالت نے مہلت دیدی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ میں کاہنہ کے علاقے سے چھ سال قبل اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی کے حوالے سے اہم سماعت ، عدالت نے پولیس ڈائری میں وقت درج نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور آئی جی پنجاب کو ملک اشرف : توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا۔  چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے  پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئےآئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو  مغوی کی بازیابی کے لیے 18 ستمبر تک کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی جس میں خاتون نے اپنی بیٹی فوزیہ بی بی کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے ،سماعت کے دوران آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن محمد ذیشان رضا، ڈی آئی جی لیگل اویس ملک اور دیگر اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے  خاتون کی بازیابی کے لیے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت  کو آگاہ کیا کہ سپیشل برانچ، سی سی ڈی، انویسٹی گیشن، آپریشن اور آئی بی افسران پر مشتمل 9 رکنی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔نادرا سے چہرے کی شناخت کا ڈیٹا شیئر کیا گیا ہے۔مغوی خاتون کا ڈی این اے اس کی والدہ سے حاصل کیا جا رہا ہے، جو تمام لاوارث لاشوں کے ساتھ میچ کیا جائے گا۔
مغوی کی تصاویر ٹی وی، کیبل، مزارات، پولیس موبائل ایپ اور تمام تھانوں میں فراہم کی گئی ہیں۔سیف سٹی کے کیمرے اور روایتی تفتیشی طریقے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے پولیس کی تفتیشی کمزوریوں پر سوالات اٹھائے اور ریمارکس دئیے کہ "ماں پانچ چھ سال تک روتی رہی، پولیس نے کچھ نہیں کیا۔""آپ کو پہلے دن نوٹس لینا چاہیے تھا کہ تفتیشی نے ڈائری کا وقت نہیں لکھا۔"چیف جسٹس  نے  آئی جی  سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ "کیا آپ نے مغوی کی تصاویر اخبارات میں شائع کیں؟"آئی جی نے جواب دیا کہ: "کیبل پر چلایا، آج کل اخبارات پڑھنے کا رجحان کم ہے، پھر بھی اشتہار دے دیں گے۔"جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے:"اخبار پڑھنے کا رجحان کم ضرور ہوا ہے لیکن دکانوں پر آج بھی لوگ اخبار پڑھتے ہیں۔"  چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ نے حکومت کو آگاہ کیا جائے کہ وہ  ’میرا پیارا‘ ایپ کے ذریعے لاپتہ افراد کی بازیابی کے اقدامات کیے جائیں اور عوام کو ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دی جائے۔درخواست گزار حمیداں بی بی نے اپنی بیٹی فوزیہ بی بی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں اس کے شوہر اور ساس کے خلاف درج کیا گیا تھا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ مغوی خاتون کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

Ansa Awais

Content Writer