ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

داتا دربار کے علاقہ سے اغوا ہونے والے نوجوان کی بازیابی کا کیس بھی نمٹ گیا 

داتا دربار کے علاقہ سے اغوا ہونے والے نوجوان کی بازیابی کا کیس بھی نمٹ گیا 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس  مس عالیہ نیلم کی عدالت میں میں مغویوں کی بازیابی کے کیسز پر اہم پیش رفت، داتا دربار کے علاقہ سے اغوا ہونے والے نوجوان کی بازیابی کا کیس بھی نمٹ گیا ۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران مغویوں اور لاپتہ افراد کے کیسز میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ چیف جسٹس کی  بازیابی کے متعلق کیسز میں  ہدایات کے بعد پنجاب پولیس ان معاملات میں متحرک نظر آ رہی ہے اور عدالت میں تفصیلی رپورٹیں پیش کی جا تی رہیں ،داتا دربار کی رہائشی پروین بی بی کے بیٹے محمد عثمان کی بازیابی سے متعلق کیس بھی نمٹا دیا گیا۔ پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق محمد عثمان ٹرین سے گر کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ عدالت میں  اس کیس میں سائلہ خاتون  پروین بی بی اپنے بیٹے محمد عثمان کی تلاش میں در بدر پھرتی رہی اور جب مایوسی حد سے بڑھ گئی تو اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ چیف جسٹس کے حکم پر سی سی پی او اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران عدالت میں پیش ہو کر یقین دہانیاں کروائی تھیں  کہ مغویوں کی بازیابی میں ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور  عدالت کے حکم پر مسلسل پیش رفت رپورٹیں ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرائی جاتی رہیں۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح ہدایت کی کہ اغوا اور گمشدگی کے تمام کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف فراہم ہو سکے۔وکلاء نے عدالت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے احکامات متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہیں  اور اس بات کا عندیہ ہے کہ عدلیہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔عدالت کے براہِ راست احکامات کے باعث پولیس کی کارکردگی میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے 

Ansa Awais

Content Writer