ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں کراچی کی وارثتی پراپرٹی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایس پی آپریشنز ماڈل ٹاؤن اخلاق احمد تارڈ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو جمعہ، 7 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
یہ حکم جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری بلال عمر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔ سماعت کے موقع پر ایس پی آپریشنز ماڈل ٹاؤن اخلاق احمد تارڈ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ محسن عباس کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار بلال عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بہن نے کراچی میں واقع خاندانی وارثتی جائیداد کے تنازعے سے متعلق ایس پی ماڈل ٹاؤن لاہور کو درخواست دی، حالانکہ یہ معاملہ کراچی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پولیس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے کیس میں مداخلت کی جو پنجاب کے دائرہ اختیار میں آتا ہی نہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ایس پی ماڈل ٹاؤن سے استفسار کیا کہ کراچی کی جائیداد کے معاملے میں لاہور پولیس کیسے کارروائی کر سکتی ہے؟ جس پر ایس پی اخلاق تارڈ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔فاضل جج جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق احمد تارڈ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے، “کراچی کی پراپرٹی کے معاملات لاہور میں کیوں چلائے جا رہے ہیں؟ کیا پنجاب کو اسی طرح چلایا جا رہا ہے؟ آپ لوگوں نے پنچایت لگا رکھی ہے؟ ایسے چلائیں گے اپنا ڈویژن؟” “تم ریکوری افسر بنے ہوئے ہو، شرم ہونی چاہیے، مگر تمہیں شرم بھی نہیں آتی۔” آئی جی پنجاب اس کیس میں جمعہ کے روز پیش ہو ۔
ایس پی اخلاق احمد تارڈ نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی پنجاب کو طلب نہ کیا جائے، تاہم جسٹس شہرام سرور چوہدری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے “آئی جی کو بلوا لیں، وہی دیکھیں گے کہ ان کے افسران کس طرح اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔”بعدازاں عدالت نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو جمعہ، 7 نومبر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت سات نومبر تک ملتوی کر دی