ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا مارکیٹس رات 10 بجے ؛ریسٹورنٹس 11 بجے بند کرنے کے نوٹیفیکشن پر سختی سے عمل درآمد کا حکم

 لاہور ہائیکورٹ کا مارکیٹس رات 10 بجے ؛ریسٹورنٹس 11 بجے بند کرنے کے نوٹیفیکشن پر سختی سے عمل درآمد کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

  ملک اشرف : عدالت نے صوبائی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مارکیٹس کو رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس کو رات 11 بجے تک بند کرنے کے حکومتی نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دیا۔ جبکہ شادی ہالز اور تقریبات کے اوقات کار پر بھی مکمل پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔

 جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی، ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز اور دیگر سرکاری افسران پیش ہوئے۔دورانِ سماعت  جسٹس شاہد کریم نے ڈی سی سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’کمرشل مارکیٹوں کے اوقاتِ کار کے حوالے سے پہلے ہی نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے، اس پر اب ہر صورت عمل درآمد کروانا ہوگا۔

جسٹس شاہد کریم نے ڈپٹی کمشنر سے استفسار کیا کہ یہ نوٹیفکیشن کب کا ہے اور اس میں مارکیٹس کے بند کرنے کے اوقات کیا طے کیے گئے تھے؟ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے بتایا کہ ستمبر 2023 میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق کمرشل مارکیٹس رات 10 بجے بند ہوں گی، جبکہ ریسٹورنٹس پیر سے جمعرات تک اور جمعہ سے اتوار تک رات 11 بجے تک بند کیے جائیں گے۔

جسٹس  شاہد کریم نے ہدایت کی کہ ان اوقات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور شادیوں میں وقت کی پابندی کے ساتھ ساتھ ون ڈش پالیسی پر بھی مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ شادیوں کے اوقات اور کھانوں کی خلاف ورزی عام ہے، اگرچہ یہ براہِ راست سموگ سے متعلق نہیں، لیکن اس پر بھی سختی ہونی چاہیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران اتوار کے روز کمرشل سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جائے تاکہ سموگ میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاگزشتہ سال بھی اتوار کو تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی تھی، اب دوبارہ ایسے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

جسٹس  شاہد کریم نے واسا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی اے اور واسا ترقیاتی منصوبے شروع تو کرتے ہیں مگر ان کے اختتام کا کوئی وقت طے نہیں ہوتا، مختلف جگہوں پر پائپ پھینک رکھے ہیں جس سے حادثات پیش آ رہے ہیں۔عدالت نے واسا کو ہدایت دی کہ وہ اپنے جاری ترقیاتی منصوبوں کی ٹائم لائن عدالت میں جمع کروائےاور خبردار کیا کہ ترقیاتی کاموں کو لامحدود مدت تک نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ سات نومبر کے بعد بغیر فٹنس گاڑیاں سڑکوں پر نہ چلنے دی جائیں اور ایچ ٹی وی گاڑیوں کو بغیر وی ایچ ایس سرٹیفیکیشن کے شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے احکامات کو نمایاں طور پر مشتہر کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔