وزیر اعلیٰ مریم نواز کی انسپکشن ٹیم نے چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبے کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔
پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی نے چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبے پر سنجیدہ نوعیت کےسوالات اٹھا دیے۔ راولپنڈی کی واسا کا کہنا ہے کہ چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبہ مکمل طور پر ایشین ڈیویلپمنٹ بینک فنڈڈ منصوبہ ہے، منصوبے کیلئے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے 35 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔
چہان ڈیم کے منصوبے کے معاہدے کا ٹینڈر دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبے کے 4 لاٹز پر کام ہو رہا ہے، لاٹ 2 اور 3 کا کنٹریکٹ غیر ملکی کمپنی کو 20 ارب 40 کروڑ روپے میں ایوارڈ کیا گیا تھا، 20 ارب 40کروڑ مالیت کا کنٹریکٹ ترکیہ کی کمپنی کو ایوارڈ کر دیا گیا تھا۔
چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بیرسٹر نبیل اعوان کی سربراہی میں معاہدے کا جائزہ لیا گیا، پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اجلاس کے بعد منصوبے کے 2 لاٹز کا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔
پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ خاص کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے والوں کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب کارروائی کریں۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اس پراجیکٹ کا ہر3 ماہ بعد پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی میں جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔