سٹی42: دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور سولر ٹیلی اسکوپ نے سورج کی حیرت انگیز تفصیلات پر مبنی پہلی تصویر جاری کردی۔
سورج ہماری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے، ایک بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب سورج ہمارے سامنے نہ ہو، بلکہ سورج سامنے نہ ہو تو ہمارا دن ہی آغاز نہیں ہوتا لیکن تب بھی ہم سورج کو بس سرسری سا ہی جانتے ہیں، اس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں لیکن جان نہیں پاتے، حتیٰ کہ سورج کی شکل کے بارے میں بھی ہمیں بس معمولی ہی علم ہے۔ اب البتہ یہ ہوا ہے کہ ایک نئی تھری ڈائی مینشنل تصویر میں پہلی بار سورج کی سطح کے انتہائی نزدیکی مناظر سامنے آئے ہیں۔
ہمارے پیارے سورج کی یہ غیر معمولی واضح تصویریں جو Inouye سولر ٹیلی اسکوپ نے کھینچی ہیں۔ یہ خاص سولر ٹیلی سکوپ دراصل اب تک بننے والی سب سے بڑی سولر ٹیلی سکوپ ہے۔
پیارے سورج کے چہرے کی ایک بہت واضح تصویر میں سورج کی فضا میں نیچے کی جانب ہماری زمین کے براعظموں جتنے بڑے سیاہ دھبوں کا ایک جھرمٹ بھی نمایاں ہے جسے ایک پکسل پر 10کلومیٹر تک کور کرکے دکھایا گیا ہے۔
اس تصویر س کے متعلق گمان ہے کہ اس سے سائنس دانوں کو سورج کے نسبتاً خطرناک موسموں کی آمد کی پیش گوئیاں کرنے میں مدد ملےگی۔ سورج کا موسم زرا سا ہی بگڑ جائے تو ہماری زمین پر قیامتیں برپا ہو جاتی ہین۔ گرمی کی خوفناک لہریں آتی ہیں جو انسانوں حیوانوں کا جینا مشکل کر ڈالتی ہیں۔ سورج کا موسم بدل جائے تو ہماری زمین پر سردی کی لہریں بھی چل پڑتی ہیں، برف کے طوفان چرند پرند ہر شے کو منجمد کر ڈالتے ہین اور ہم انسانوں کے لئے جسم کی رگوں میں بہتے خون کو جم جانے سے بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
امریکہ کی الگ تھلگ سٹیٹ ہوائی میں نصب اس سولر ٹیلی سکوپ کو دنیا کی سب سے طاقتور سولر ٹیلی سکوپ قرار دیا گیا ہے جو سورج کا قدرے زیادہ قریبی مشاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سورج کو سمجھنے میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سے دیکھین تو بس آگ ہی آگ نطر آتی ہے۔ آگ کے بڑے الاؤ، بہت اونچے شعلے، اور بس۔۔۔ اب بہرحال امید بندھی ہے کہ ہم آنکھ سے جو نہیں دیکھ پاتے وہ طاقتور ٹیلی سکوپس سے دیکھ پائیں اور آگ کے سمندر جیسے اس گولے کی ھقیقت کو کچھ تو سمجھ پائیں۔ ممکن ہے ہم، ہم نہین تو ہمارے بعد آنے والے ہمارے بچے یقیناً ایک دن یہ جان ہی لین گے کہ سورج دراصل کیا ہے اور اس کی سطح پرہر وقت آگ کے طوفان کیوں اٹھتے ہیں، اس کے اندر آخر کتنی آگ ہے جو مسلسل جلتی ہے تب بھی کم نہین ہوتی، یہ کم ہو رہی ہے تو کب تک جلتی رہے گی۔ اور اس جیسے بہت سے دوسرے سوال!