پی ایچ اے میں ایک اور سکینڈل، سرکاری خزانے کو شدید نقصان

Parks and Horticulture Authority
PHA

در نایاب: پی ایچ اے افسران نہ سُدھر سکے، شعبہ مارکیٹنگ میں گھپلوں کے بعد ایک اور سکینڈل منظر عام پر آگیا،  گرین بیلٹس پر 1 کروڑ سے زائد رقم کی کیبلز بچھوا کرصرف7 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ پی ایچ اے ویلفیئر ایسوسی ایشن نے چیف سیکرٹری کے نام خط لکھتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

پی ایچ اے ایکٹ میں گرین بیلٹ یا حدود میں کیبل ڈالنے کا ریٹ 67.5 روپے فی کیوبک فٹ مقرر ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ایچ اے افسران نے زون ون اور زون فائیو میں 1لاکھ 57ہزار 440 کیوبک فٹ کیبل ڈلوائی ہے۔ اس حوالے سے پی ایچ اے آفیسرز ویلفئیر ایسوسی ایشن نے چیف سیکرٹری کے نام درخواست بھی لکھی ہے۔ درخواست میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے کیساتھ کہا گیا ہے کہ ماڈل ٹاؤن ایل بلاک،ایم بلاک،فیصل ٹاؤن میں دن دیہاڑے غیر قانونی کیبل ڈلوائی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو 1 کروڑ 6 لاکھ 27 ہزار 200 روپے کا نقصان ہوا ہے۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا کر افسران نے اپنی جبیں بھریں، زون ون اور زون فائیو کا دس سالہ ریکارڈ چیک کیا جائے۔ درخواست کے ساتھ ویڈیو اور دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے چیف سیکرٹری، سیکرٹری ہاؤسنگ، ڈی جی پی ایچ اے سے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آفیسرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے پی ایچ اے کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں، کرپشن عروج پر پہنچ چکی ہے، اس سے قبل بھی مارکیٹنگ میں گھپلوں کی درخواست دی تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈی جی پی ایچ اے جواد قریشی کا کہنا ہے معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں، الزام پر جامع جانچ پڑتال کی جائے گی۔ 

دوسری جانب پی ایچ اے شعبہ مارکیٹنگ کے ریونیو میں کروڑوں روپے کی کمی کے معاملے پر پی ایچ اے آفیسرز ویلفیئرایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے پی ایچ اے کے شعبہ مارکیٹنگ میں گھپلوں کی نشاندہی کی تھی۔ جنرل سیکرٹری کے مطابق سال دوہزار سترہ ، اٹھارہ کے دوران مارکیٹنگ ریونیو کی مد میں 75کروڑ روپے جمع ہوئے۔ سال 2019,2018  میں مارکیٹنگ فیس کی مد میں 71 کروڑ جبکہ سال2020,2019 میں رقم کم ہوکر 45کروڑ رہ گئی۔

سال دوہزار اکیس میں دس اپریل تک صرف بیس کروڑ روپے جمع ہوئے۔ پی ایچ اے ایسوسی ایشن نے میرج فنکشنز کی فیس کی مد میں بھی ریونیو میں کمی کی نشاندہی کی ہے۔ اینٹی کرپشن نے ڈائریکٹر ایڈمن پی ایچ اے کی وساطت سے شعبہ مارکیٹنگ کے افسران کو ریکارڈ سمیت دوبارہ طلب کرلیا ہے۔