ویب ڈیسک: لاہور جنرل ہسپتال میں عالمی یوم آگاہی برائے شیزوفرینیا کے موقع پر شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام آگاہی واک اور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
لاہورجنرل ہسپتال میں منعقدہ اس آگاہی واک میں پرنسپل پروفیسر ڈاکٹرفاروق افضل،ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ شعبہ امراض نفسیات پروفیسر فائزہ اطہر،نامور ڈاکٹرز، ہیلتھ پروفیشنلز، میڈیکل طلبہ اور پیرامیڈیکل سٹاف نے شرکت کی، واک کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر شیزوفرینیا کے مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویے، ان کی عزتِ نفس کی بحالی اور بروقت طبی امداد کی اہمیت پر مبنی نعرے اور پیغامات درج تھے۔
پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ ذہنی صحت، جسمانی صحت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جسمانی کمزوری یا معذوری کے ساتھ انسان کافی حد تک دوسروں کی مدد کے بغیر گزارہ کر سکتا ہے، تاہم ذہنی معذوری انسان کو کلی طور پر دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیزوفرینیا سمیت دیگر نفسیاتی امراض کے بارے میں عوامی آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے مریض ایک باوقار اور فعال معاشرتی زندگی گزار سکتے ہیں اس لیے معاشرے کو ذہنی بیماریوں سے جڑی غلط فہمیوں اور سماجی بدنامی کے خاتمے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد کو ہمدردی اور بھرپور سماجی تعاون مل سکے۔
تقریب کے دوران شعبہ نفسیات کی جانب سے ایک خصوصی آگاہی خاکہ بھی پیش کیاگیا،جس میں شیزوفرینیا کے مریضوں کو درپیش سماجی مشکلات، خاندان کے کلیدی کردار اور بروقت طبی مداخلت کی ضرورت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا، تقریب کے اختتام پر ذہنی صحت کے فروغ اور نفسیاتی بیماریوں سے وابستہ سماجی بدنامی کے خاتمے کے عزم کے ساتھ کیک بھی کاٹا گیا۔
پروفیسر فائزہ اطہر نے بیماری کی علامات اور علاج پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ شیزوفرینیا ایک دماغی بیماری ہے جس میں مریض کو حقیقت سے ہٹ کر آوازیں سنائی دیتی ہیں یا ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو موجود نہیں ہوتیں، جس سے انسان کے سوچنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید ادویات اور کونسلنگ کی بدولت ایسے مریض مکمل طور پر نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خاندان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص طویل عرصے تک تنہائی پسندی، الجھن، چڑچڑے پن یا غیر حقیقی آوازیں سننے جیسے آثار دکھائے تو فوراً ماہرِ نفسیات سے رجوع کیا جائے کیونکہ باقاعدہ دوا اور مستقل فالو اپ ہی اس علاج کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر فاروق افضل نے شعبہ نفسیات کی پیشہ ورانہ مہارت اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام عوام میں شعور بیدار کرنے اور مریض دوست طبی ماحول بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لاہور جنرل ہسپتال ذہنی صحت کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے، معیاری علاج اور مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گا۔