سٹی42: حکومت کے نئے بجٹ کے ٹیکس بل میں کٹوتیاں لگانے سے ایک کروڑ نو لاکھ شہریوں کو مفت علاج کی سہولت سے محروم ہونے کا امکان ہے۔
امریکہ میں جی او پی ٹیکس بل میں کٹوتیوں سے 2034 میں مزید 10.9 ملین لوگوں کے انشورنس سے محروم ہونے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کے اقدامات سے بھی بہت سے لوگ سرکاری خرچ پر ہیلتھ انشورنس سے محروم ہو چکے ہیں۔
کانگریس کے بجٹ آفس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بل کے تحت ہیلتھ انشورنس کے بغیر رہنے پر مجبور ہونے والے امریکی شہریوں کی تعداد میں 10.9 ملین لوگوں کے اضافے کا تخمیںہ لگایا ہے، جن میں 1.4 ملین ایسے ہیں جو ملک میں سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے پروگراموں میں قانونی حیثیت کے بغیر شامل ہیں۔ ان میں پاکستان اور دنیا بھر سے گئے ہوئے بہت سے تارکین وطن بھی شامل ہیں جن کی کسی نہ کسی وجہ سے قانونی حیثیت تو نہیں ہے لیکن امریکہ کے قانون کے مطابق انہین ہیلتھ انشورنس حاصل ہے۔
کانگرس کے بجٹ آفس نے کہا کہ اس پیکج سے وفاقی اخراجات، یا اخراجات میں اس مدت کے دوران 1.3 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوگی۔
امریکہ کے ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایک بار پھر امیر ملک بنانے کے نعرے کے ساتھ وفاقی حکومت کے اخراجات کم کرنے کے ایجنڈا پر عمل کر رہے ہیں جس کا برٓ نشانہ "ہیلتھ انشورنس" ہے۔ امریکہ میں علاج انتہائی مہنگا ہے اور غریب اور متوسط طبقہ کے شہری صرف سرکاری ہیلتھ انشورنس کے ذریعہ ہی علاج کروانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں دوائیں مفت ملتی ہیں لیکن امریکہ میں ہر دوا اور طبی سہولت کے لئے نقد ادائیگی کرنا پڑتی ہے یا ہیلتھ انشورنس موجود ہو تو انشورنس کمپنی ادائیگی کرتی ہے۔
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی گزشتہ حکومتوں نے تمام شہریوں کی علاج تک رسائی ممکن بنانے کے لئے ہیلتھ انشورنس پر سب سے زیادہ توجہ دی اور ری پبلکن پارٹی کے صدر ٹرمپ اپنے گزشتہ دور میں بھی ہیلتھ انشورنس کے مخالف رہے اور موجودہ دور میں بھی ہیلتھ انشورنس کے سب سے سخت مخالف ہیں۔
خدشہ ہے کہ ہیلتھ انشورنس سے محرروم ہونے والے امریکی شہریوں اور امریکہ میں اب تک مقیم تارکین وطن کے لئے سخت مصیبتیں کھڑی ہو جائیں گی اور کروڑوں لوگوں کا معیارِ زندگی گر جائے گا۔
واشنگٹن میں امریکہ کی کانگرس کے سپیکر مائیک جانسن نے تسلیم کیا کہ ابھی بھی کام کرنا باقی ہے کیونکہ ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس میں چھوٹ، اخراجات میں کٹوتیوں اور بارڈر سیکیورٹی فنڈز کے بڑے بل کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔