ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پولیس مقابلہ ، درخواست خارج ، ہائیکورٹ کی ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کی تعریف

پولیس مقابلہ ، درخواست خارج ، ہائیکورٹ کی ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کی تعریف
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : مغوی کی عدم بازیابی کے متعلق کیس کی سماعت,ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے ،پولیس نے محمد افضل عرف عابد کے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے کی رپورٹ عدالت پیش کردی جس پر عدالت نے بازیابی کی درخواست خارج کردی ،عدالت کی دوران سماعت ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کی تعریف بھی کی۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے شہری خاتون ریحانہ بی بی درخواست پر سماعت کی ،ایڈیشنل آئی جی ، سی سی ڈی ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس کے ہمراہ پیش ہوئے ، جسٹس محمد طارق ندیم نے ایڈیشنل آئی جی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا چھٹہ صاحب ، آپ انتہائی تجربہ کار افسر ہیں، ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس نے عدالت کو بتایا کہ 7 مئی دوہزار چوبیس کو قصور میں پولیس مقابلہ ہوا ، جس میں یہ بندہ مارا گیا ، فاضل جج نے استفسار کیا کہ نامعلوم بندہ مرگیا ، اس کی شناخت کیسے ہوئی ، ڈیڈ باڈی کس کو دی گئی،،ڈی این اے کے بغیر ہم کیسے مان لیں، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا
پولیس نے اپنے ذرائع سے اس کے گاؤں جاکر اس شناخت کی ، اس کے بھائی کو طلبی کا نوٹس بھی بھیجا لیکن وہ نہیں آیا ، جسٹس محمد طارق ندیم نے لاء افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا محمد افضل۔ عرف عابد کی بازیابی کا کیس ہے ، کیا مرنے کے بعد اس کی تصویر اتاری گئی ، پنجاب حکومت کے لاء افسر نے جواب دیا جی اس کی تصویر اتاری ہے ، اس کے قریبی رشتہ داروں نے تصدیق کی ہے کہ یہ وہی ہے، فاضل جج نے درخواست گزار خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاآپ نے متعلقہ بندے کی فوٹیج دیکھ لی ہے ،اگر یہی ہے تو بات ختم ہوگئی ہے ،پولیس نے مرنے والے شخص کی ڈیڈ باڈی کو ا مانتا دفنا دیا ہے،اب بازیابی کا کیس نہیں بنتا،،عدالت نے کسی کے آنسوؤں کی وجہ سے نہیں فیصلہ نہیں کرنا ہوتا ، عدالتیں ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں  ،درخواست گزار خاتون نے محمد افضل عرف عابد کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہوا تھا۔
 

Ansa Awais

Content Writer