ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرکاری ریٹ لسٹ بے اثر، منافع خوروں کاعوام کی جیب پر ڈاکا

سرکاری ریٹ لسٹ بے اثر، منافع خوروں کاعوام کی جیب پر ڈاکا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

مریم مظہر:اوپن مارکیٹ میں من مانی قیمتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، موسمی پھل اور سبزیاں سرکاری نرخ نامے سے 50 سے 100 روپے تک زائد قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ شہری مہنگی اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور ہیں۔

مارکیٹ سروے کے مطابق پیاز سرکاری قیمت 105 روپے کے مقابلے میں 180 روپے فی کلو، ٹماٹر 215 روپے کے بجائے 250 روپے فی کلو، لہسن 350 روپے کے مقابلے میں 420 روپے فی کلو اور ادرک 335 روپے کے بجائے 370 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔

اسی طرح شملہ مرچ 210 روپے کے بجائے 260 روپے فی کلو، شلجم 50 روپے کے مقابلے میں 70 سے 80 روپے فی کلو، مٹر 220 روپے کے بجائے 280 روپے فی کلو، بھنڈی 100 روپے کے مقابلے میں 140 روپے فی کلو جبکہ فارمی پالک 25 روپے کے بجائے 50 سے 60 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔

مارکیٹ میں بینگن 70 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 80 سے 160 روپے فی کلو، دیسی ٹینڈے 110 روپے کے بجائے 160 روپے فی کلو، میتھی 160 روپے کے مقابلے میں 180 روپے فی کلو اور لیموں 160 روپے کے بجائے 220 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔

پھلوں کی قیمتوں میں بھی واضح فرق برقرار ہے۔ فالسے 280 روپے کے بجائے 320 روپے فی کلو، چیکو 240 روپے کے مقابلے میں 270 روپے فی کلو، سفید خوبانی 350 روپے کے بجائے 380 روپے فی کلو اور کیلے 215 روپے فی درجن کے مقابلے میں 250 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح آم کی سرکاری قیمت 320 روپے ہونے کے باوجود 380 سے 410 روپے فی کلو، چونسہ آم 260 روپے کے بجائے 280 سے 310 روپے فی کلو، لنگڑا آم 130 روپے کے مقابلے میں 180 روپے فی کلو، دوسہری آم 210 روپے کے بجائے 250 سے 280 روپے فی کلو جبکہ گرما 110 روپے کے بجائے 180 سے 210 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے، ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کرے اور مہنگائی سے پریشان عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔