کارپٹ مینوفیکچررز کا حکومت سے بڑا مطالبہ

 کارپٹ مینوفیکچررز کا حکومت سے بڑا مطالبہ

( حسن علی ) پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرمائے کی قلت دور کرنے کیلئے ریفنڈ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ، شرح سود کو 4 سے 5 فیصد پر لا کر منجمد کیا جائے۔

پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ساڑھے 5 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کو موخر یا ری شیڈول کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مشکل حالات میں اس طرح کے مثبت اقدامات نا گزیر ہیں، سرمائے کی قلت دور کرنے ری فنڈ میں تیزی اور شرح سود کو 4 سے 5فیصد پر لا کر کم از کم تین سال کیلئے منجمد کیا جائے۔

 ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسلم طاہر، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پرویز حنیف، وائس چیئرمین شیخ عامر خالد، سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک، سینئر ممبر ریاض احمد، سعید خان، اعجاز الرحمان، محمد اکبر ملک، میجر (ر) اختر نذیر اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔

ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت اور مرکزی بینک برآمدی شعبوں کیلئے بھی مزید آسانیاں پیدا کریں تاکہ مشکل حالات میں برآمدات میں اضافہ ہو سکے جس سے مجموعی طو رپر معیشت کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈ کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے تاکہ نئی سر گرمیوں کو شروع کرنے کیلئے سرمایہ میسر آ سکے۔

رہنماؤں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک موجودہ حالات میں شرح سود کو صفر فیصد پر لے آئے ہیں ہمیں بھی کامیاب ممالک کی پیروی کرنی چاہیے اور پاکستان میں بھی شرح سود کو کم از کم 4 سے 5 فیصد پر لا کر تین سال کیلئے منجمد کیا جائے۔