سانحہ ساہیوال کیس کا چالان انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش

سانحہ ساہیوال کیس کا چالان انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش

(شاہین عتیق) انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت لاہور میں ساہیوال یوسف والہ میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونیوالے خلیل احمد اور اس کی فیملی کے کیس کا چالان پیش کر دیا گیا، عدالت نے کیس کے ملزمان کو 10 جولائی کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر ساہیوال پولیس نے یوسف والا کے قریب 29 جنوری کو فائرنگ کرکے گاڑی میں اسماعیل نگر کے خلیل احمد، اس کی بیوی اور 2 بچوں کو ہلاک کرنے کے کیس کا چالان انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں لاہور منتقل کر دیا، اس کیس میں سی ٹی ڈی کے 6 اہلکارسب انسپکٹر صفدر حسین، احسن خان، محمد رمضان، سیف اللہ عابد، حسین اکبر اور ناصر نواز کو بطور ملزم نامزد کر رکھا ہے، اس سے قبل کیس ساہیوال دہشتگردی عدالت میں چل رہا تھا، جہاں سے اب لاہور منتقل کردیا گیا ہے، چالان آنے پر عدالت نے ملزمان کو حاضری کے بعد دوبارہ 10 جولائی کو طلب کرلیا۔

 کیس میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے جانیوالوں پر فائرنگ کر کے خلیل احمد، اس کی بیوی نبیلہ، 2 بچوں ادیبہ اورحمزہ کو ہلاک کر دیا تھا۔