ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کاہنہ سےمبینہ اغوافوزیہ بی بی کی بازیابی کےمعاملےمیں پولیس پرتشددکاالزام، درخواست خارج

کاہنہ سےمبینہ اغوافوزیہ بی بی کی بازیابی کےمعاملےمیں پولیس پرتشددکاالزام، درخواست خارج
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے کاہنہ سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی فوزیہ بی بی کی بازیابی کے معاملے میں پولیس پر تشدد کے الزامات سے متعلق متفرق درخواست خارج کردی,چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بغیر ٹھوس شواہد کسی کے خلاف کیسے کاروائی کی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے خاتون سائلہ بی بی کے متعلق کیس میں متفرق درخواست پر سماعت کی ، درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اسی دباؤ کے تحت درخواست گزار کے دو فیملی ممبران پر تشدد کیا گیا۔ متاثرہ افراد جنرل ہسپتال بھی گئے تھے لیکن پولیس نے مبینہ طور پر میڈیکل کروانے کی اجازت نہیں دی۔،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تشدد کے ثبوت سے متعلق وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا متاثرہ افراد کا میڈیکل سرٹیفکیٹ موجود ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ میڈیکل نہیں ہو سکا کیونکہ پولیس نے ہسپتال میں تعاون نہیں کیا۔، عدالت نے مزید استفسار کیا کہ جن پر تشدد ہوا وہ افراد کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہ گھر پر موجود ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے"آپ ہوا میں باتیں کر رہے ہیں، کیسے مان لوں کہ ان پر تشدد ہوا ہے؟"
وکیل درخواست گزار عدالت کو ٹھوس شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے، جس پر عدالت نے درخواست خارج کر دی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ بغیر ثبوت کے الزامات قبول نہیں کیے جا سکتے، اور عدالت کسی بھی الزام کو شواہد کے بغیر تسلیم نہیں کرتی۔
 

Ansa Awais

Content Writer