شہر کی ترقیاتی اور اسٹریٹ لائٹس سکیمیں سیاست کی نظر

شہر کی ترقیاتی اور اسٹریٹ لائٹس سکیمیں سیاست کی نظر


(راؤ دلشاد) حکومت اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مابین سرد مہری برقرار، شہر کی سڑکوں کے لیے نئی اسٹریٹ لائٹس کا ذخیرہ ختم، سو روز بعد بھی اسٹریٹ لائٹس ، پی سی سی اور مین ہولز کی سکیموں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

پنجاب حکومت اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مابین اختیارات کی سرد جنگ جاری ہے، میٹروپولیٹن کارپوریشن کی 274 یونین کونسلز کے ایک ارب سے زائد کے ترقیاتی کاموں میں پنجاب حکومت رکاوٹ بن گئی، شہر کی ترقیاتی اور اسٹریٹ لائٹس کی سکیمیں سیاست کی نظر ہوگئیں۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ہاؤس اجلاس میں 274 یونین کونسلز اور 45 ڈسٹرکٹ ممبرز کی سکیمیں منظور کی گئیں، ایم سی ایل ہاؤس کی منظوری کے بعد لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید نے محکمہ بلدیات کو ارسال کیں، منظور شدہ سکیموں پر چیف انجنیئر محکمہ بلدیات نے اعتراضات لگا دئیے، تمام تر تکنیکی اعتراضات کو دور کرنے کے بعد بھی سکیموں کو منظور نہیں کیا گیا، اسٹریٹ لائٹس اور ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت نہ ہونے پر بلدیاتی نمائندوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لارڈ مئیر لاہور کہتے ہیں کہ سیوریج، مین ہول کورز، اسٹریٹ لائٹس ، پی سی سی اور کارپٹ کے کام بند ہیں، حکومت تبدیل ہونے کے بعد سے ترقیاتی سکیموں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، سیکرٹری بلدیات سے معاملہ حل کرانے کے لیے بات کی جائے گی، شہر کے منتخب 319 بلدیاتی نمائندوں کا استحقاق مجروح کیا جا رہا ہے۔

کرنل (ر) مبشر جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ترقیاتی سکیموں کے مجوزہ فنڈز میٹروپولیٹن کارپوریشن اپنے وسائل سے خرچ کرے گی، ترقیاتی سکیموں کی منظوری کے انتظار کے بجائے جلد عدالت جائیں گے۔

لاہور میں اور کیا کچھ ہو رہا ہے ؟ جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں 

https://www.youtube.com/channel/UCdTup4kK7Ze08KYp7ReiuMw