ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات؟ ٹرمپ کا بڑا بیان، ایران کا دو ٹوک انکار

جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات؟ ٹرمپ کا بڑا بیان، ایران کا دو ٹوک انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: شدید کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم سفارتی محاذ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ حالیہ فضائی جھڑپوں اور طیارہ گرائے جانے کے واقعے کے باوجود مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا جائے گا اور رابطے کسی نہ کسی سطح پر جاری رہیں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک باقاعدہ جنگی کیفیت اختیار کر چکی ہے، اور ایسے حالات میں فوری ردعمل کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب لاپتہ عملے کے رکن کے حوالے سے مکمل معلومات دستیاب نہیں۔

 انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری طرف ایران نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے ثالثی کرنے والے ممالک کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی شرائط کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

 ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہو چکی ہیں اور اس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی بتائی جا رہی ہے۔

ادھر خطے میں عسکری کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں امریکی افواج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس میں متعدد طیاروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہیلی کاپٹروں پر بھی حملے کیے گئے۔ ایک واقعے میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اے-10 طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم پائلٹ محفوظ نکلنے میں کامیاب رہا۔

ایرانی اسپیکر نے بھی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا اب حکومت کی تبدیلی کی باتوں سے پیچھے ہٹ کر اپنے پائلٹ کی تلاش میں مدد مانگ رہا ہے، جو بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔