ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مودی اور پزشکیان کی ملاقات۔۔امریکا نے پابندیاں لگالنے کی ’’تڑی‘‘ لگا دی

مودی اور پزشکیان کی ملاقات۔۔امریکا نے پابندیاں لگالنے کی ’’تڑی‘‘ لگا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ کوئی ملک ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد نہ دے، بصورت دیگر اسے بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؛ لیکن پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنا واشنگٹن کیلئے ناقابل قبول ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت اور ایران کے درمیان فی الحال کوئی تجارتی معاہدہ زیرِ بحث ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات کے بعد ایران کے ساتھ تجارت اور مالی روابط رکھنے والے ممالک کو سخت انتباہ دیا ہے۔ روبیو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف واضح ہے کہ کوئی ملک ایران کو پابندیوں سے بچنے یا ایسی مالیاتی راہیں بنانے میں مدد نہ دے جن کے ذریعے تہران آمدنی حاصل کرسکے۔ روبیو نے فاکس نیوز ریڈیو کے پروگرام ’’The Brian Kilmeade Show‘‘ میں مودی پزشکیان ملاقات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان کوئی تجارتی معاہدہ ہے‘‘۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ دنیا کے ممالک اپنی خارجہ پالیسیاں خود بناتے ہیں اور کئی ممالک ایرانی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ نے بھی ماضی میں ایرانی حکومت کے بعض عناصر سے بات چیت کی ہے، لیکن پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنا واشنگٹن کے لیے ناقابل قبول ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ملک ایران کیلئے ایسے ذرائع یا طریقہ کار قائم کرنے میں مدد کرتا ہے جن سے تہران آمدنی پیدا کرکے ’’دہشت گردی کی سرپرستی‘‘ یا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرسکے تو امریکہ اس ملک کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرے گا۔ یہ بیان بھارت اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کے فوراً بعد آیا ہے، جس نے نئی دہلی کی ایران سے متعلق پالیسی پر واشنگٹن کی نظر کو نمایاں کردیا ہے۔
واضح ررہے کہ مودی اور پزشکیان نے31اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔ یہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد دونوں لیڈروں کی پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات تھی۔ ملاقات میں دونوں نے باہمی تعلقات، تجارت اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ مودی نے بھارت اور ایران کے درمیان تجارت کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ مودی نے ملاقات کے بعد کہا کہ بھارت ایران کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو مختلف شعبوں میں مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے تمام مسائل کو ’’بات چیت اور سفارت کاری‘‘ کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ملاقات میں چابہار بندرگاہ اور آبنائے ہرمز بھی اہم موضوعات رہے۔ چابہار بھارت کے لیے خاص اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک سمندری رسائی فراہم کرتا ہے اور بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ راہداری سے بھی جڑا ہوا ہے۔

ایران کیلئے بھی بھارت کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں۔ پزشکیان نے مودی سے کہا کہ ہندوستان خطے اور دنیا کے مختلف فریقوں کے ساتھ اپنے وسیع روابط استعمال کرکے جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف واپسی میں مدد کرے۔ ایرانی بیان کے مطابق پزشکیان نے امریکہ پر اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھارت کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سائنسی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ مودی نے پزشکیان کو نئی دہلی میں12اور 13ستمبر کو ہونے والی BRICS سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔