ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں گلاف کا خطرہ نیپال سے زیادہ ہے،60 گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے امکانات ہیں

پاکستان میں گلاف کا خطرہ نیپال سے زیادہ ہے،60 گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے امکانات ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

روزینہ علی : بڑھتا ہوا درجہ حرارت پاکستان میں گلیشئرز کے لیے خطرناک  ہے ۔ 

پاکستانی گلیشئرز نیپال سے زیادہ خطرے میں ہیں۔این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب  نے 24 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان تین بڑی ماؤنٹین رینجز کا جنکشن ہے،

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشئرز کی صحت متاثر ہو رہی ہے،پاکستان میں گلاف کا خطرہ نیپال سے زیادہ ہے۔تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے مختلف گلیشیائی جھیلیں ٻن چکی ہیں،60 ایسی گلیشیائی جھیلیں ہیں جن کے پھٹنے کے امکانات زیادہ ہیں، آئس راک کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

گلیشئرز میں کریکس بن چکے ہیں،پرما فراس ایک قدرتی گلو کا کام کرتا ہے جو آئس راک کو گلیشئرز سے چپکائے رکھتا ہےبڑھتے درجہ حرارت کے باعث پرما فراس اسوقت تیزی سے پگھل رہا ہے، 

گلیشیر سلائیڈ کر سکتا ہے جو برفانی تودے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔نیپال کا سانحہ  بھی پرما فراس کے پگھلنے کی وجہ سے ہوا،۔این ڈی ایم اے کی ٹیمیں ان علاقوں میں متحرک ہیں جہاں خطرہ زیادہ ہے۔