زاہد چودھری: محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کی جانب سے لاہور سمیت پنجاب کے 54 ٹیچنگ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی افسران مقرر کر دئیےگئے ہیں, فیصلے کے تحت ایڈمنسٹریشن، انستھیزیا، ریڈیالوجی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز کو فائر سیفٹی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقرر کیے گئے ڈاکٹرز ہسپتالوں میں آگ بجھانے کے انتظامات، فائر سیفٹی آلات اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیں گے، تاہم فائر سیفٹی کے شعبے میں مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد کی خدمات حاصل نہیں کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ بدستور عارضی نوعیت کے اقدامات پر انحصار کر رہا ہے، جبکہ پنجاب کے ہسپتالوں میں آتشزدگی کے ہر واقعے کے بعد اسی نوعیت کے فیصلے کیے جاتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیشتر ڈاکٹرز خود فائر فائٹنگ اور آگ بجھانے کی تربیت سے محروم ہیں، اس لیے ان سے فائر سیفٹی انتظامات کی مؤثر نگرانی کی توقع مشکل ہے۔
ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ڈاکٹرز کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، جبکہ ہسپتالوں کو فائر سیفٹی آلات کی خریداری کے لیے تاحال کوئی اضافی فنڈز بھی فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔