ملک اشرف : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے اقدام قتل کےملزم کی ضمانت منظورکرلی،عدالت نےگرفتار ملزم محمد صدیق کو ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی۔ سماعت کے بعد ضمانت کی منظوری دیدی گئی۔سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے میاں تبسم علی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ تھانہ کلیانہ، ضلع پاکپتن پولیس نے شہری محمود کو فائرنگ سے زخمی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا، تاہم پولیس کی اپنی تفتیش کے مطابق مدعی ایف آئی آر کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔میاں تبسم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تین ملزمان پر فائرنگ کا الزام لگایا گیا، تاہم پولیس تفتیش کے بعد دو ملزمان کو بے گناہ قرار دے چکی ہے۔وکیل صفائی نے یہ بھی نکتہ اٹھایا کہ مدعی نے موقع پر 15 پر پولیس کو کال کی، لیکن ایف آئی آر 14 گھنٹے کی تاخیر سے درج کرائی گئی، جس سے مقدمے پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔دوسری جانب پراسیکیوشن نے ملزم محمد صدیق کی ضمانت کی مخالفت کی۔ تاہم عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ایف آئی آر، تفتیشی حقائق اور میڈیکل شواہد کی روشنی میں اقدام قتل کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔