ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ عدالت نے ریسٹورنٹس کے اوقات کار پر عمل درآمد نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کو ذاتی حیثیت میں کل طلب کرلیا۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کی، جس میں ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت نے کہا کہ "یہ عدالتی کارروائی کسی کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کی رہنمائی اور مدد کے لیے کی جارہی ہے"۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ عدالت گزشتہ سات برس سے سموگ کے تدارک کے لیے کام کررہی ہے اور اگر گزشتہ احکامات پر عمل درآمد کیا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ، جسٹس شاہد کریم نے ڈی جی ماحولیات سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کہ شہر کی ستر فیصد آلودگی ٹرانسپورٹ کے باعث ہے، اور حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ “ہمیں دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے خود کو درست کرنے کی ضرورت ہے،” اور سوال اٹھایا کہ “انٹی سموگ گنز کا فائدہ کیا ہے؟” جسٹس شاہد کریم نے ڈی جی ماحولیات سے مکالمہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ کئی بار حکم دیا گیا کہ لاہور کے داخلی راستوں اور موٹر وے پر ماحولیاتی ٹیمیں آلات کے ساتھ تعینات کی جائیں، مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جی ٹی روڈ، رنگ روڈ اور موٹر وے پر ٹرک بے تحاشا دھواں چھوڑ رہے ہیں، لیکن کوئی روک ٹوک نہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ شہر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، اور ٹریفک پولیس کسی بھی ایسی گاڑی کو سڑک پر نہ آنے دے۔ مزید برآں، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو اڈوں پر ہی بند کردیا جائے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ کمرشل ایریاز میں اتوار کے روز بندش کی ضرورت ہے، اس حوالے سے پہلے سے ہی ڈی سی لاہور کے نوٹس موجود ہیں، جن پر عمل ہونا چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ڈی جی ماحولیات ان شعبوں کی نشاندہی کریں جن میں کام کرنے کی ضرورت ہے، عدالت ان کی معاونت کے لیے تیار ہے۔دوران سماعت ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے بتایا کہ لاہور آنے والی تمام ہیوی ٹریفک کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے، اور سات نومبر کے بعد کوئی بھی گاڑی جس کے پاس وِکس سرٹیفکیٹ نہیں ہوگا، سڑک پر نہیں آسکے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں چودہ ہزار ایف سی ٹی وی کیمرے ٹریفک کی نگرانی کریں گے جبکہ جن گاڑیوں کو پکڑا جائے گا، ان کے خلاف کارروائی کا لائحہ عمل بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ ریت کی ٹرالیاں بغیر کور کے نہیں چلنے دی جاتیں اور محکمہ ماحولیات کی چھ ٹیمیں اس پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے پندرہ ٹرک محکمہ ماحولیات کو فراہم کیے جا رہے ہیں جو موٹر وے اور بڑی شاہراہوں پر تعینات ہوں گے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ “ماحولیات کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر جگہ کی آگ خود بجھاسکے،” جس پر ڈی جی ماحولیات نے کہا کہ ان ٹیموں کا مقصد محکمہ زراعت کی معاونت کرنا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ سموگ گنز میں پانی کے استعمال پر بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے،عدالت نے عندیہ دیا کہ سموگ تدارک کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے گا تاکہ مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے، اور کیس کی سماعت چار نومبر تک ملتوی کردی۔