سٹی42: غزہ جنگ میں حماس کے حامی گروپوں کی مہم کے نتیجہ میں بعض عرب ممالک میں اور انگلینڈ میں مسلمانوں نے رمضان کے دروان افطاری کے لئے اسرائیلی کھجور خریدنے سے احتراز کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسی لاکھ ٹن کھجور کی مارکیٹ میں صرف 40 ہزار ٹن اسرائیلی مجدول کھجور آتی ہے، جو ٹوٹل مارکیٹ کا نصف فیصد ہے۔ اس سال بعض گروپوں نے اسرائیلی کھجور کا بائی کاٹ کرنے کی مہم چلا دی ہے جس کے نتیجہ میں ڈسٹری بیوٹرز کو اسرائیلی مجدول کھجور کے پیکٹوں سے اسرائیل کا نام ہٹانا پڑ رہا ہے۔
دنیا بھر میں اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ نے اسرائیلی برآمد کنندگان کو پریشان کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رمضان المبارک کے دوران کئی عرب اور اسلامی ممالک میں اسرائیلی کھجوریں برسوں سے دسترخوان کا حصہ بنتی ہیں تاہم اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد شروع ہونے والی بائیکاٹ مہم نے اسرائیلی کھجوروں، خصوصاً المجدول کی فروخت کو متاثر کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق عالمی سطح پر کھجوروں کی مارکیٹ تقریباً 80 لاکھ ٹن کی ہے جس میں اسرائیل کا حصہ تقریباً 40 ہزار ٹن ہے۔ اسرائیلی کھجوروں کا 80 فیصد حصہ المجدول کھجوروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اسرائیل میں کھجور بہت کم کاشت کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کھجور مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں پیدا ہوتی ہے، الغورن بستی میں سالانہ 30 ہزار ٹن المجدول کھجور پیدا ہوتی ہے جو اسرائیل کی مجموعی پیداوار کا 75 فیصد ہے۔
اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہمات نے دوسرے سال بھی اسرائیل میں کھجور کاشت کرنے والوں کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق رمضان کے دوران اسرائیلی کھجوروں کی فروخت میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
انگلینڈ مین اسرائیلی پروڈکٹس کے بائی کاٹ کی تبلیغ کرنے والی بعض تنظیموں نے اب کہاہے کہ اسرائیلی کمپنیاں اپنی کھجور پر ’فلسطین‘ کا لیبل لگا رہی ہیں جو برطانوی قوانین کے خلاف ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق کھجور کے برآمدکنندگان کھجوروں پر سے اسرائیل کا نام ہٹا کر انہیں عرب اور مسلم ممالک میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بائیکاٹ کے حامیوں نے اس کے بھی خلاف مہم چلا دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل سالانہ 340 سے 500 ملین ڈالر کی کھجوریں برآمد کرتا تھا تاہم غزہ جنگ اور بائیکاٹ مہمات کی وجہ سے اسرائیلی کھجوروں کی تجارت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔