سٹی42: سات اکتوبر 2023 حماس کے اسرائیل پر حملہ میں اغوا کی کارروائی کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے والی یرغمال لڑکی ایملی داماری کے ہاتھ کی زخم لگنے کے سولہ ماہ بعد سرجری ہو گئی۔
سابق اسیر کی والدہ مینڈی داماری نے کہا کہ ان کی بیٹی کے زخمی ہاتھ کو حماس ن کے اغوا کاروں نے 'پن کشن کی طرح سی دیا' تھا۔
رہائی پانے والی یرغمالی خٓتون ایملی دماری نے جمعرات کو 7 اکتوبر 2023 کو لگنے والے زخموں کی پیچیدگیوں کو درست کرنے کے لیے کئی آپریشن کیے گئے ہیں۔
29 سالہ دماری کو 19 جنوری کو قید سے رہا کیا گیا تھا اور انہوں نےرہائی کے بعد اپنا وہی ہاتھ لہرا کر دکھایا تھا جس کی اب دو انگلیاں غائب ہیں۔ داماری نے ہاتھ کی دو غائب ہو چکی انگلیوں والے ہاتھ کو اس طرح اٹھایا جیسے وہ وکٹری کا نشان بنا رہی ہوں۔
قید کے طویل عرصہ کے دوران ایملی داماری کو اپنے ہاتھ اور ٹانگ دونوں میں شدید درد ہو تارہا تھا۔
ان کے زخموں کی نوعیت اور انفیکشن کے خطرے کے باوجود، دماری کے حماس کے اغوا کاروں نے آئیوڈین کی ایکسپائرڈ دوا کے سوا کوئی طبی امداد فراہم نہیں کی تھی۔
"یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے کہ اسے جان لیوا انفیکشن نہیں ہوا،" مینڈی داماری نے کہا، ج اس ماں نے کئی مہینوں تک عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے گروپوں کو یرغمالیوں کے لیے انسانی امداد اور طبی امداد کو ترجیح دینے کے لیے درخواستیں گزاری تھیں۔
ایملی داماری نے سرجری کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ان کا ہاتھ کبھی بھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو سکے گا، اس کے باوجود وہ اس قسم کی شدید تکلیف کا سامنا نہیں کر رہی تھیں جو انہیں ڈیڑھ سال قید میں بھگتنا پڑی تھیں۔
سابق یرغمالی نے بتایا کہ غزہ کے شفا اسپتال میں سرجری کے دوران ان کے ہاتھ کے اعصاب کو ایک ساتھ سلایا گیا تھا، جس سے ایک کھلا اور تیز زخم رہ گیا تھا جو سرنگوں کی حالت کی وجہ سے چار ماہ تک ٹھیک نہیں ہوا، جہاں انہیں طویل عرصے تک رکھا گیا۔ زخم بالآخر اس کی تین باقی انگلیوں کے درمیان ایک بڑا داغ بن گیا۔
دماری نے کہا کہ وہ فزیو تھراپی کی مدد سے اس تازہ ترین آپریشن کے بعد اپنے ہاتھ کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی امید کرتی ہیں۔
"میں نے اپنے ہاتھ، اپنے درد اور اپنے نشانات کو مکمل طور پر گلے لگا لیا ہے،" دماری نے اپنی سرجری سے پہلے کہا۔ "میرے نزدیک وہ آزادی، امید اور طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔"
برطانوی اسرائیلی شہری دماری کو 7 اکتوبر کو کبوتز کفر عزا میں ان کے گھر سے یرغمال بنایا گیا تھا۔
اسے کبتز کی ایک قریبی دوست گیلی برمن کے ساتھ اسیر کر لیا گیا تھا، جو کبتز ک پر حماس کے حملے کے دوران بھاگ کر ان کے گھر پہنچی تھی اور وہاں سے دونوں کو ایک ساتھ اغوا کر لیا گیا تھا۔
دوسری خاتون برمن کے جڑواں بھائی زیو برمن کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا۔ دونوں بھائی ابھی تک غزہ میں قید ہیں۔
سابق یرغمالی دماری جو برٹش شہری بھی ہیں، وہ برطانیہ کے وزیر اعظم کئیر سٹارمر کے ساتھ رابطے میں ہیں اور برطانیہ کے اپنے اگلے سفر پر ان کی رہائش گاہ پر جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
دماری نے کہا، "میں اپنی سرجریوں سے صحت یاب ہونے کے بعد، اور باقی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد، میں برطانیہ واپس آنے کے لیے بہت پرجوش ہوں گی۔" "وہاں بہت سارے لوگ ہیں جن کا میں ذاتی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے مجھے قید سے واپس لانے میں میری مدد کی۔"
ایمیلی دماری Tottenham Hotspur فٹ بال کی فین ہیں۔ انہیں فٹ بال کی اس انگلش ٹیم کے پرستار ساتھیوں کی جانب سے بے شمار گیم ٹکٹس بھیجے گئے ہیں۔ ٹوٹینہم ہوٹ سپر کے فینز نےصپئرس کے فٹ بال میچوں کے دوران دماری کی رہائی کے لئے خصوصی سونگ "Bring Emily Home" بہت دفعہ گایا۔