ویب ڈیسک: عالمی فٹبال کی ریگولیٹری باڈی انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) نے ورلڈ کپ سے قبل کھیل کے قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے، جن کا اطلاق آئندہ سیزن 2026-27 سمیت ورلڈ کپ میں بھی ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق نئے قوانین کا مقصد کھیل میں شفافیت بڑھانا، وقت کے ضیاع کو کم کرنا اور میچز کو مزید منظم بنانا ہے نئی ہدایات کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی بحث یا تنازع کے دوران اپنا چہرہ، منہ یا جرسی سے خود کو چھپائے گا تو اسے ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے، تاہم عام گفتگو کے دوران اس پر کوئی سزا نہیں ہوگی۔
اسی طرح اگر کوئی کھلاڑی ریفری کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے میدان چھوڑے گا تو اسے بھی ریڈ کارڈ کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ٹیم یا آفیشلز کی جانب سے کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر اکسانا بھی سخت سزا کا باعث ہوگا۔
اگر کوئی ٹیم میچ جاری رکھنے سے انکار کرے تو اسے میچ ہارنے کے مترادف قرار دیا جائے گا۔
کھیل میں تاخیر کو روکنے کے لیے تھرو اِن اور گول کِک کے دوران نیا کاؤنٹ ڈاؤن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت مقررہ وقت میں عمل نہ ہونے پر بال مخالف ٹیم کو دے دی جائے گی۔
کھلاڑی کی تبدیلی کے نئے اصول کے مطابق تبدیل ہونے والے کھلاڑی کو 10 سیکنڈ کے اندر میدان چھوڑنا ہوگا، بصورت دیگر متبادل کھلاڑی فوری طور پر میدان میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
طبی امداد سے متعلق قانون میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت فیلڈ کھلاڑی کو علاج کے بعد ایک منٹ تک میدان سے باہر رہنا ہوگا، تاہم گول کیپرز کے لیے استثنا ہوگا۔
وی اے آر کا دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا ہے، اب یہ صرف گول یا پنالٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غلط ریڈ/یلو کارڈ، غلط کھلاڑی کی شناخت، اور فاؤل کے پہلے ہونے والے واقعات پر بھی مداخلت کر سکے گا۔
مزید برآں ہر ہاف میں تین منٹ کا لازمی ہائیڈریشن بریک رکھا جائے گا، جبکہ گول کیپر کی انجری کے دوران خصوصی اصول بھی نافذ ہوں گے۔
انٹرنیشنل فٹبال بورڈ کے مطابق یہ تمام تبدیلیاں کھیل کو زیادہ شفاف، تیز اور منصفانہ بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔