ویب ڈیسک: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی نانی اور بھارت کی معروف فلمساز میرا نائر کی والدہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر پروین نائر 94 برس کی عمر میں نئی دہلی میں وفات پا گئیں مرحومہ نے تقریباً 60سال سماجی خدمت کیلئے وقف کئے ۔انہوں نے 1966 میں فلم ’’سلام بامبے‘‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مدد سے سلام بالک ٹرسٹ کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا۔
میڈیا رپورٹس مطابق ڈاکٹر پروین نائر سلام بالک ٹرسٹ (Salaam Baalak Trust) کی شریک بانی تھیں، جس نے دہلی کے ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد بے سہارا اور سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی مدد کی۔ ظہران ممدانی کا وائرل ریپ گانا ’’Nani‘‘ بھی انہی سے منسوب تھا۔ سلام بالک ٹرسٹ ابتدا میں صرف تین عملے کے ارکان، 25 بچوں اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک چھوٹی سی جگہ سے کام شروع کیا، مگر وقت کے ساتھ یہ ملک کے معروف فلاحی اداروں میں شامل ہو گیا۔ ان کے انتقال کی اطلاع ٹرسٹ کے شریک بانی اور جے پور لٹریچر فیسٹیول کے منتظم سنجوئے رائے نے دی۔انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا! پروین نائر94برس کی عمر میں ہم سے رخصت ہو گئیں‘‘۔
واضح رہے کہ سلام بالک ٹرسٹ آج بھی دہلی اور اسکے اطراف میں سڑکوں پر رہنے والے اور محنت کش بچوں کو رہائش، خوراک، لباس، تعلیم، صحت، مشاورت اور تفریح جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ پروین نائر نے صرف دہلی ہی نہیں بلکہ اڑیسہ میں بھی کئی دہائیوں تک سماجی شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ ریڈ کراس، ڈی اے وی پبلک سکول اور ڈیف اینڈ ڈمب ایسوسی ایشن سمیت مختلف اداروں سے وابستہ رہیں۔ انہوں نے دہلی میں سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے حقوق کیلئے پالیسی سازی اور قانون سازی سے متعلق فورمز پر بھی سرگرم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر پروین نائر کی خدمات کے اعتراف میں سلام بالک ٹرسٹ کو2011میں بھارت کے صدر کا نیشنل ایوارڈ فار چائلڈ ویلفیئر ملا، جبکہ خود پروین نائر کو 2017 میں جمنالال بجاج ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں آسٹریلیا کی CQUniversity نے سماجی اختراع (Social Innovation) کے میدان میں اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی تھی۔ انکے نواسے ظہران ممدانی نے سیاست میں آنے سے قبل Mr Cardamom کے نام سے موسیقی تخلیق کی تھی۔ انکا گانا ’’Nani‘‘ اپنی نانی پروین نائر کے نام ایک خراجِ تھا، جس میں انہوں نے اپنی نانی کی آزاد مزاج شخصیت اور غیر روایتی زندگی کو خراج پیش کیا۔2019 میں دی نیویارک ٹائمزز کو دیئے گئے انٹرویو میں ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ ان کی نانی نے زندگی بھر روایت سے ہٹ کر فیصلے کئے اور یہی بات انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی تھی۔ پروین نائر کے انتقال پر سماجی کارکنوں، ادبی حلقوں اور بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔