ویب ڈیسک: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عوام پر مالی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرح بڑھ کر 160 روپے 61 پیسے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ 106 روپے فی لیٹر تھی۔
رواں مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، اور حکومتی اندازوں کے مطابق لیوی میں اضافے سے نان ٹیکس ریونیو میں مزید بہتری آئے گی۔
دوسری جانب حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر چکی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اضافہ کر کے نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 184 روپے 49 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے۔
اسی طرح دیگر ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ جیٹ فیول 40 روپے 2 پیسے مہنگا ہو کر 517 روپے 17 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 29 روپے 62 پیسے اضافے کے بعد 395 روپے 3 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 467 روپے 48 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر پڑیں گے۔