آئی جی پنجاب بال بال بچ گئے

آئی جی پنجاب بال بال بچ گئے

(ملک اشرف) 36 ڈی ایس پیز کی معطلی کے معاملہ پرہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست مستردکردی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس محمد امیر بھٹی نے ڈی ایس پی لعل محمد کھوکھر کی درخواست پر سماعت کی، آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کی جانب سےاےآئی جی ایچ آر سی سیف المرتضی اورسلیم چغتائی پیش ہوئے، درخواستگزارکی جانب سےملک نورمحمداعوان ایڈووکیٹ پیش ہوئے، اےآئی جی لیگل محمد سلیم چغتائی نےآئی جی کا جواب جمع کروایا، جس میں بتایا گیا کہ معطل ہو نے والےتمام ڈی ایس پیزکوذاتی شنوائی کا موقع دینےکیلئےنوٹس جاری کئے، 10ڈی ایس پیزکوآج سناگیا اوردرخواستگزارسمیت10 کوکل سناجائےگا۔

درخواستگزار ڈی ایس پی کےوکیل نےکہاکہ اس کاموکل 2017میں قصورمیں3 ماہ کے لئےڈی ایس پی تعینات رہا، قصورمیں زینب کے قتل کےمعاملہ پرہنگامہ آرائی پر معطل کردیاگیا،انکوائری میں بیگناہ ثابت ہوا ، موجودہ آئی جی نے 27مارچ کواس سمیت 36 ڈی ایس پیزکومعطل کیا،معطلی کےخلاف ہائیکورٹ سےرجوع کیا,عدالت نے درخواست دادرسی کے لئےآئی جی کوبھجوادی،عدالت نے آئی جی کو ڈی ایس پیز کادوبارہ موقف سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا،عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کی جا رہی.

جسٹس محمدامیربھٹی نےریمارکس دیئےکہ اگرکسی پرکرپشن کاالزام ہےتواس کو انکوائری کےدوران بھی معطل کیا جاسکتا ہے,عدالت نےقراردیاکہ بادی النظرمیں کوئی عدالتی حکم عدولی نہیں ہوئی توہین عدالت کاکیس نہیں بنتا ۔