ویب ڈیسک: عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش نے سونے کی قیمتوں کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا, سونے کی قیمت تاریخ میں پہلی بار 3,500 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔
آج ایشیائی مارکیٹ میں ابتدائی تجارت کے دوران سونا 3,501.59 امریکی ڈالر فی اونس کی ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اپریل میں قائم کیے گئے 3,500.10 ڈالر کے پچھلے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کی ایک بڑی وجہ کمزور امریکی ڈالر اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ سودی شرحوں میں کمی کے امکانات ہیں۔
سونے کی قیمتوں میں اس اضافے کی ایک اور ممکنہ وجہ امریکی عدالتِ اپیل کا وہ فیصلہ بھی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی تجارت پر اثر انداز ہونے والے متعدد ٹیرف کو "غیر قانونی" قرار دیا گیا، تاہم فی الحال ان ٹیرف کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ حکومت کو سپریم کورٹ میں اپیل کا وقت مل سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی معاشی صورتحال غیر یقینی رہے گی، سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔