ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے چھ سالہ بچی سے نازیبا حرکات کے ملزم کی ضمانت خارج کردی

لاہور ہائیکورٹ نے چھ سالہ بچی سے نازیبا حرکات کے ملزم کی ضمانت خارج کردی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے چھ سالہ بچی سے نازیبا حرکات کے ملزم کی ضمانت خارج کردی ، جس کے بعد عدالت سے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

جسٹس چوہدری سلطان محمود نے ملزم شہروز علی کی عبوری درخواست پر سماعت کی۔ملزم شہروز علی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر حماد افتخار سید عدالت میں پیش ہوئے۔پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف تھانہ ساندہ میں چھ سالہ بچی سے نازیبا حرکات کرنے کا مقدمہ درج ہے۔ متاثرہ بچی نے دفعہ 164 کے بیان میں ملزم کو واضح طور پر نامزد کیا ہے اور اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزم نے اس کے ساتھ غلط حرکت کی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں دو الگ الگ تفتیشیں ہوئیں اور دونوں تفتیشوں میں ملزم کو قصوروار قرار دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ اس مقدمے کی کم از کم سزا 14 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال ہے۔دوسری جانب وکیل صفائی نے دلائل دیے کہ مدعیہ اور ملزم آپس میں رشتہ دار ہیں اور ان کے درمیان جائیداد کا تنازعہ چل رہا ہے۔ مدعیہ نے پراپرٹی ہتھیانے کے لیے جھوٹا مقدمہ درج کروایا ہے۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت خارج کر دی، جس کے بعد ساندہ پولیس نے ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا۔

 

Ansa Awais

Content Writer