ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیلی فوج کا’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ پر حملہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی گرفتار

اسرائیلی فوج کا’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ پر حملہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: غزہ کے محصورین کی امداد کے عزم سے رواں’گلوبل صمود فلوٹیلا‘  میں پاکستان کی نمائندگی کرنیوالے جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹرمشتاق احمد خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز قافلے کے ایک جہاز پر سوار ہو گئی ہیں اور جہاز پر موجود تمام افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔گلوبل صمود فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ہے اور قافلے میں 500 سے زیادہ افراد سوار ہیں جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا امدادی سامان لے کر غزہ کی طرف گامزن تھی جبکہ فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق انسانی ہمدردی پر مبنی گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے ساحل سے 90 ناٹیکل میل دور تھی.

یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹرمشتاق احمد خان نے گزشتہ روز مبینہ طور پر بیڑے میں شامل کشتیوں پر اسرائیلی ڈرون حملوں کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا تھا۔سینیٹر مشتاق کے مطابق گزشتہ رات 15 ڈرونز اور 10 حملوں سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن ان کا عزم توانا ہے اور وہ جھکیں گے نہیں۔’ہمارا حوصلہ بلند ہے اور ہم غزہ پہنچ کر رہیں گے، ان شاءاللہ، گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غزہ کے پرامن، قانونی انسانی امدادی کاروان پر اسرائیلی نسل پرست ناجائز ریاست کی ڈرون حملوں کا عالمی برادری نوٹس لے۔‘ 

انہوں نے حکومت پاکستان سے فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے غزہ تک پہنچنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ ’غزہ ہم آرہے ہیں۔‘ اس سے قبل ایکس پر ہی اپنے ایک علیحدہ پیغام میں سینیٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ قلیل وقت میں رات کی تاریکی میں 7 بار حملہ کیا گیا ہے کشتیوں کو ساؤنڈ بموں، دھماکہ خیز فلیئرز سے نشانہ بنایا گیا اور مشتبہ کیمیائی مادوں سے چھڑکاؤ کیا گیا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ’ریڈیو جام کر دیے گئے، مدد کے لیے کالز بلاک کر دی گئیں، فوری طور پر بین الاقوامی توجہ اور تحفظ درکار ہے، فلوٹیلا کو ہاتھ نہ لگاؤ، غزہ کی ناکہ بندی ختم کرو۔‘ـسینیٹر مشتاق احمد خان نے غزہ کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی ختم کرنے کا نعرہ بلند کیا۔

 رپورٹس کے مطابق اب صمود فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں کے لائیو فیڈ اچانک بند ہوگئے ہیں جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اسرائیلی بحریہ کی کارروائی کے نتیجے میں ہوا ہے۔اس حوالے سے اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کو راستہ بدلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اسرائیلی بحریہ صمود فلوٹیلا کے قریب پہنچ گئی ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ فلوٹیلا وار زون میں داخل ہو رہا ہے۔اس قافلے میں 40 سے زیادہ کشتیاں اور قریباً 500 افراد شریک ہیں، جن میں اٹلی کے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے بتایا گیا کہ اسرائیلی بحریہ کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود گلوبل صمود فلوٹیلا کی 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔ یہ کشتیاں غزہ سے صرف 46 ناٹیکل میل یعنی85 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کشتیوں پر امدادی سامان موجود ہے اور ان کا مقصد محصور غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود ان کا مشن جاری رہے گا۔ 
  اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ویڈیو میں فلوٹیلا کو ریڈیو کے ذریعے خبردار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلوٹیلا کو کہا گہا ہے کہ اگر وہ غزہ کو امداد پہنچانا چاہتے ہیں تو اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی جانب موڑلیں جہاں سے امداد کو غزہ پہنچادیا جائے گا۔

متیہان ساری کے مطابق اسرائیلی بحری جہاز ’الما‘ سے صرف 5 سے 10 میٹر کے فاصلے تک آگئے تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔