ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے میو ہسپتال کی 101 کنال 19 مرلہ اراضی سے متعلق ملکیت کے تنازع میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد کی ملکیت کے تعین کا معاملہ آئینی دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اس لیے اس نوعیت کے تنازعات کا فیصلہ دیوانی عدالت ہی کر سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے آئینی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی اور درخواست گزاردرخواست گزار نعمان صدف کو مجاز عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔
یہ فیصلہ جسٹس شاہد کریم نے شہری نعمان صدف کی درخواست پر تحریری طور پر جاری کیا۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ ہسپتال کی زمین کے کچھ حصے پر غیر قانونی قابضین موجود ہیں، جہاں مکانات، دکانیں اور ایک اسکول بھی قائم ہیں۔
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ پیش ہوئے، جنہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہریونیو رپورٹ کے تحت اسپتال کی 29 کنال 14 مرلے زمین پر 90 غیر قانونی قابضین موجود ہیں، جبکہ موضع لاہور خاص میں ہسپتال کی زمین پر 55 مکانات، 34 دکانیں اور ایک اسکول غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ ملکیت کے حتمی تعین کے لیے تمام فریقین دیوانی عدالت سے رجوع کریں، جہاں شواہد اور ریکارڈ کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔