ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی قوانین کے مطابق تعمیر ہونے والی بلڈنگز کو ریلیف دینے کا حکم دے دیا ،عدالت نے ایل ڈی اے کو ماحولیاتی قوانین کی تعمیل کرنے والی بلڈنگ کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے حوالے سے پالیسی بنانے کا حکم دے دیا.
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی،، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے وکیل اور ممبر ماحولیاتی کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ رکشہ مینوفیکچررز کو پہلے نوٹس دیں ، انہیں عمل درآمد کے لیے موقع دیں ، آپ رکشہ مینوفیکچررز کو ایس او پیز کے مطابق رکشہ بنانے کے لئے انہیں کچھ مہلت دیں ،مینوفیکچررز کو پندرہ دن یا مہینہ دیں ، انہیں مہلت تو دینا ہوگی، اگر پھر بھی عمل درآمد نہیں ہوتا ،تو پھر کاروائی کریں .
ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پانی کی ری سائیکلنگ نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی رپورٹ پیش کی،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کتنا کام ہونے والا ہے، پی ڈی ایم اے اور محکمہ ماحولیات کو ملکر بہت سارا کام کرنا ہے،کیا حکومت نے کوئی سڑک بنانے کا بھی پراجیکٹ شروع کیا ہے؟ ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے جوب دیا ٹائروں کی ری سائیکلنگ کرکے اس سے بھی سڑک کی تعمیر کی جاسکتی ہے ،
جسٹس شاہد کریم نے ممبر ماحولیاتی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اس معاملے پر سی اینڈ ڈبلیو سے میٹنگ کریں ، ممبر ماحولیاتی کمیشن نے ایم اے کالج کی گروانڈ کی بحالی کے متعلق بھی رپورٹ عدالت میں پیش کی ،دوران سماعت ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز ،ممبرماحولیاتی کمیشن ،،ٹریفک کے نمائندے سمیت دیگر پیش پیش ہوئے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی.